Chapter No 27-پارہ نمبر    ‹                      Iron-57 سورت الحدید ›Ayah No-29 ایت نمبر
| لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ |
| آسان اُردو | تاکہ اہل کتاب (یہ حقیقت)جان جائیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی شئے پربھی طاقت نہیں رکھتے، اور بےشک فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے اس(فضل) کو دیتاہے. اور اللہ فضلِ عظیم کا مالک ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر انہیں کوئی اختیار نہیں ہے، اور یہ کہ فضل تمام تر اللہ کے ہاتھ میں ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | (تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہیے) تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے فضل پر اُن کا کوئی اجارہ نہیں ہے، اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور وہ بڑے فضل والا ہے |
| احمد رضا خان | یہ اس لیے کہ کتاب والے کافر جان جائیں کہ اللہ کے فضل پر ان کا کچھ قابو نہیں اور یہ کہ فضل اللہ کے ہاتھ ہے دیتا ہے جسے چاہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے، |
| احمد علی | تاکہ اہلِ کتاب یہ نہ سمجھیں کہ (مسلمان) الله کے فضل میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے اوریہ کہ فضل تو الله ہی کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہے دے اور الله بڑا فضل کرنے والا ہے |
| فتح جالندھری | (یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے |
| طاہر القادری | (یہ بیان اِس لئے ہے) کہ اہلِ کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر کچھ قدرت نہیں رکھتے اور (یہ) کہ سارا فضل اللہ ہی کے دستِ قدرت میں ہے وہ جِسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ فضل والا عظمت والا ہے، |
| علامہ جوادی | تاکہ اہلِ کتاب کو معلوم ہوجائے کہ وہ فضل خدا کے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتے ہیں اور فضل تمام تر خدا کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کردیتا ہے اور وہ بہت بڑے فضل کا مالک ہے |
| ایم جوناگڑھی | یہ اس لیے کہ اہل کتاب جان لیں کہ اللہ کے فضل کے کسی حصہ پر بھی انہیں اختیار نہیں اور یہ کہ (سارا) فضل اللہ ہی کے ہاتھ ہے وه جسے چاہے دے، اور اللہ ہے ہی بڑے فضل واﻻ |
| حسین نجفی | تاکہ اہلِ کتاب یہ نہ جانیں کہ یہ لوگ (مسلمان) اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔ |
| M.Daryabadi: | This He will award that the people of the Book may know that they control naught of the grace of Allah, and that the grace is in Allah's hand; He vouchsafeth it Unto whomsoever He wilt, And Allah is Owner of mighty grace. |
| M.M.Pickthall: | That the People of the Scripture may know that they control naught of the bounty of Allah, but that the bounty is in Allah's hand to give to whom He will. And Allah is of Infinite Bounty. |
| Saheeh International: | [This is] so that the People of the Scripture may know that they are not able [to obtain] anything from the bounty of Allah and that [all] bounty is in the hand of Allah; He gives it to whom He wills. And Allah is the possessor of great bounty. |
| Shakir: | So that the followers of the Book may know that they do not control aught of the grace of Allah, and that grace is in Allah's hand, He gives it to whom He pleases; and Allah is the Lord of mighty grace. |
| Yusuf Ali: | That the People of the Book may know that they have no power whatever over the Grace of Allah, that (His) Grace is (entirely) in His Hand, to bestow it on whomsoever He wills. For Allah is the Lord of Grace abounding. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
علمی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
اہل کتاب کو یہ بات باور کروائی گئی کہ اللہ کے فضل پر اُن کا کوئی اختیار نہیں