اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 26-پارہ نمبر          The Private Apartments-49 سورت الحجرات Ayah No-2 ایت نمبر

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ
آسان اُردو اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبی اکرمﷺ کی آواز سے اُوپربلند نہ کرو، اور نہ ہی اُس سے بات چیخ چیخ کر کرو جسطرح کہ تم میں سے بعض بعض سے چیختے ہیں کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں معلوم بھی نہ ہو
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند مت کیا کرو، اور نہ ان سے بات کرتے ہوئے اس طرح زور سے بولا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں، اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔
ابو الاعلی مودودی اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو
احمد رضا خان اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو
احمد علی اے ایمان والو اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کیا کرو اور نہ بلندآواز سے رسول سے بات کیا کرو جیسا کہ تم ایک دوسرے سے کیا کرتے ہو کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو
فتح جالندھری اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو
طاہر القادری اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبیِ مکرّم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہو جائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو،
علامہ جوادی ایمان والو خبردار اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرنا اور ان سے اس طرح بلند آواز میں بات بھی نہ کرنا جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو
ایم جوناگڑھی اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو
حسین نجفی اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبی(ص) کی آواز پر بلند نہ کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اونچی آواز میں کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں اورتمہیں خبر بھی نہ ہو۔
=========================================
M.Daryabadi: Ye who believe raise not your voices above the voice of the prophet, nor shout loud Unto him in discourse as ye shout loud Unto one another, lest your works may be rendered of non-effect, while ye perceive not.
M.M.Pickthall: O ye who believe! Lift not up your voices above the voice of the Prophet, nor shout when speaking to him as ye shout one to another, lest your works be rendered vain while ye perceive not.
Saheeh International: O you who have believed, do not raise your voices above the voice of the Prophet or be loud to him in speech like the loudness of some of you to others, lest your deeds become worthless while you perceive not.
Shakir: O you who believe! do not raise your voices above the voice of the Prophet, and do not speak loud to him as you speak loud to one another, lest your deeds became null while you do not perceive.
Yusuf Ali: O ye who believe! Raise not your voices above the voice of the Prophet, nor speak aloud to him in talk, as ye may speak aloud to one another, lest your deeds become vain and ye perceive not.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

محکم ایت
تاریخی ایت کیوں کہ رسولﷺ سے منسوب ہے
اس زمانے میں ایت سے علمی پہلو یہ نکلتا ہے کہ نبی اکرمﷺ کی عزت تکریم کی جائے اور اُن پر صلوۃ و درود پڑھا جائے