Chapter No 26-پارہ نمبر    ‹                  Victory-48 سورت الفتح ›Ayah No-25 ایت نمبر
| هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا |
| آسان اُردو | یہ وہ ہی تھے جنہوں نے کفر کی بھی کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا بھی تھا، اور مکمل قربانی کو بھی کہ وہ(قربانی)اپنے مقام کو پہنچے.اور اگر مومنین مرد اور مومنین عورتوں نہ ہوتیں، جن کو تم نہیں جانتے تھے۔۔کہ تم تو اُن کو کچل دیتے پھر تمہیں اُن کا بغیر علم کے جرم لگ جاتا، تاکہ اللہ جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے۔۔۔ اگر وہ (مومنین اور کافرین) الگ الگ ہوتے تو ہم واقعی عذاب دیتے اُن کو جواُن میں سے کفر کرتے تھے ایک درد ناک عذاب |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | یہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا، اور تمہیں مسجد حرام سے روکا، اور قربانی کے جانوروں کو جو ٹھہرے ہوئے کھڑے تھے، اپنی جگہ پہنچنے سے روک دیا، اور اگر کچھ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (مکہ میں) نہ ہوتیں جن کے بارے میں تمہیں خبر بھی نہ ہوتی کہ تم انہیں پیس ڈالو گے، اور اس کی وجہ سے بیخبر ی میں تم کو نقصان پہنچ جاتا (تو ہم ان کافروں سے تمہاری صلح کے بجائے جنگ کروا دیتے، لیکن ہم نے جنگ کو اس لیے روکا) تاکہ اللہ جس کو چاہے، اپنی رحمت میں داخل کردے۔ (البتہ) اگر وہ مسلمان وہاں سے ہٹ جاتے تو ہم ان (اہل مکہ) میں سے جو کافر تھے، انہیں دردناک سزا دیتے۔ | ابو الاعلی مودودی | وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور ہدی کے اونٹوں کو اُن کی قربانی کی جگہ نہ پہنچنے دیا اگر (مکہ میں) ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انہیں پامال کر دو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی روکی وہ اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کر لے وہ مومن الگ ہو گئے ہوتے تو (اہل مکہ میں سے) جو کافر تھے ان کو ہم ضرور سخت سزا دیتے |
| احمد رضا خان | وہ وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے روکا اور قربانی کے جانور رُکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے اور اگر یہ نہ ہوتا کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں جن کی تمہیں خبر نہیں کہیں تم انہیں روند ڈالو تو تمہیں ان کی طرف سے انجانی میں کوئی مکروہ پہنچے تو ہم تمہیں ان کی قتال کی اجازت دیتے ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے جسے چاہے، اگر وہ جدا ہوجاتے تو ہم ضرور ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب دیتے |
| احمد علی | وہ تو وہی ہیں جنہوں نے انکار کیا اور تمہیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو روکے رکھا اس سے کہ وہ اپنی قربان گاہ تک پہنچیں اور اگر کچھ مرد ایمان والے اور عورتیں ایمان والی نہ ہوتیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے کہ تم انہیں پامال کر دیتے پھر ان کی طرف سے تم پر نادانستگی سے الزام آتا (تو تمہیں لڑنے سے نہ روکا جاتا) تاکہ الله اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کرے اگر وہ ٹل گئے ہوتے تو ہم ان میں سے جو کافر ہیں انہیں دردناک عذاب دیتے |
| فتح جالندھری | یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں۔ اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم ان کو پامال کر دیتے تو تم کو ان کی طرف سے بےخبری میں نقصان پہنچ جاتا۔ (تو بھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے |
| طاہر القادری | یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے روک دیا اور قربانی کے جانوروں کو بھی، جو اپنی جگہ پہنچنے سے رکے پڑے رہے، اور اگر کئی ایسے مومن مرد اور مومن عورتیں (مکہّ میں موجود نہ ہوتیں) جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو کہ تم انہیں پامال کر ڈالو گے اور تمہیں بھی لاعلمی میں ان کی طرف سے کوئی سختی اور تکلیف پہنچ جائے گی (تو ہم تمہیں اِسی موقع پر ہی جنگ کی اجازت دے دیتے۔ مگر فتحِ مکّہ کو مؤخّر اس لئے کیا گیا) تاکہ اﷲ جسے چاہے (صلح کے نتیجے میں) اپنی رحمت میں داخل فرما لے۔ اگر (وہاں کے کافر اور مسلمان) الگ الگ ہو کر ایک دوسرے سے ممتاز ہو جاتے تو ہم ان میں سے کافروں کو دردناک عذاب کی سزا دیتے، |
| علامہ جوادی | یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا اور تم کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے روک دیا اور قربانی کے جانوروں کو روک دیا کہ وہ اپنی منزل پر پہنچنے سے رکے رہے اور اگر صاحبِ ایمان مرد اور باایمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے تھے اور نادانستگی میں انہیں بھی پامال کر ڈالنے کا خطرہ تھا اور اس طرح تمہیں لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچ جاتا تو تمہیں روکا بھی نہ جاتا - روکا اس لئے تاکہ خدا جسے چاہے اسے اپنی رحمت میں داخل کرلے کہ یہ لوگ الگ ہوجاتے تو ہم کفّار کو دردناک عذاب میں مبتلا کردیتے |
| ایم جوناگڑھی | یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے لئے موقوف جانور کو اس کی قربان گاه میں پہنچنے سے (روکا)، اور اگر ایسے (بہت سے) مسلمان مرد اور (بہت سی) مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تم کو خبر نہ تھی یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بھی بے خبری میں ضرر پہنچتا، (تو تمہیں لڑنے کی اجازت دے دی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے اور اگر یہ الگ الگ ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو درد ناک سزا دیتے |
| حسین نجفی | یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روکے رکھا کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ نہ پہنچ سکے اور اگر (مکہ میں) ایسے مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے (اور یہ خوف نہ ہوتا کہ) تم انہیں لاعلمی میں روند ڈالوگے اور پھر ان کی وجہ سے تم پر الزام آتا (تو جنگ نہ روکی جاتی) مگر روکی اس لئے گئی تاکہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے اگر وہ (اہلِ ایمان) الگ ہو جاتے تو ہم ان (اہلِ مکہ) میں سے کافروں کو دردناک سزا دیتے۔ |
| M.Daryabadi: | They were those who disbelieved and hindered you from the Sacred Mosque and hindered the detained offering that it should arrive at the goal thereof. And had it not been for believing men and believin women whom ye knew not, and that ye might have trampled on them and thus there might have befallen you crime on their account unwittingly. He had not restrained your hands from them. But this He did that He might bring into His mercy whomsoever He will. Had they been distinguished one from another, surely We had tormented those who disbelieved among them with a torment afflictive. |
| M.M.Pickthall: | These it was who disbelieved and debarred you from the Inviolable Place of Worship, and debarred the offering from reaching its goal. And if it had not been for believing men and believing women, whom ye know not - lest ye should tread them under foot and thus incur guilt for them unknowingly; that Allah might bring into His mercy whom He will - If (the believers and the disbelievers) had been clearly separated We verily had punished those of them who disbelieved with painful punishment. |
| Saheeh International: | They are the ones who disbelieved and obstructed you from al-Masjid al-Haram while the offering was prevented from reaching its place of sacrifice. And if not for believing men and believing women whom you did not know - that you might trample them and there would befall you because of them dishonor without [your] knowledge - [you would have been permitted to enter Makkah]. [This was so] that Allah might admit to His mercy whom He willed. If they had been apart [from them], We would have punished those who disbelieved among them with painful punishment |
| Shakir: | It is they who disbelieved and turned you away from the Sacred Mosque and (turned off) the offering withheld from arriving at its destined place; and were it not for the believing men and the believing women, whom, not having known, you might have trodden down, and thus something hateful might have afflicted you on their account without knowledge-- so that Allah may cause to enter into His mercy whomsoever He pleases; had they been widely separated one from another, We would surely have punished those who disbelieved from among them with a painful punishment. |
| Yusuf Ali: | They are the ones who denied Revelation and hindered you from the Sacred Mosque and the sacrificial animals, detained from reaching their place of sacrifice. Had there not been believing men and believing women whom ye did not know that ye were trampling down and on whose account a crime would have accrued to you without (your) knowledge, (Allah would have allowed you to force your way, but He held back your hands) that He may admit to His Mercy whom He will. If they had been apart, We should certainly have punished the Unbelievers among them with a grievous Punishment. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
تاریخی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
٭ چند مومنین مردوں اور عورتوں کے اپنے درمیان ہونے کی وجہ سے کافرین مکہ اللہ کے عذاب سے بچ گے