Chapter No 26-پارہ نمبر    ‹              Muhammad-47 سورت محمدﷺ ›Ayah No-15 ایت نمبر
| مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ |
| آسان اُردو | جنت کی مثال ہے جس کا متقین (اللہ سے ڈرنے والوں) سے وعدہ کیا گیا ہے: اُس میں بغیر بُو والے پانی کی نہریں ہیں، اور دودھ کی نہریں ہیں، جس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا. اور شراب کی نہریں ہیں پینے والوں کے لیے مزے دار، اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں؛ اُن کے لیے اُس میں ہر طرح کا پھل ہے، اور اُن کے رب کی طرف سے مغفرت ہے. (کیایہ متقین)اُ س کی طرح ہیں جو آگ میں ہمیشہ رہے گا اور اُس کو ابلتا ہوا پانی پلایا جائے گا پھر وہ(پانی) اُن (ایسوں) کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا؟ |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | متقی لوگوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس کا حال یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو خراب ہونے والا نہیں، ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا، ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سراپا لذت ہوگی، اور ایسے شہد کی نہریں ہیں جو نتھرا ہوا ہوگا، اور ان جنتیوں کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے، اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ! کیا یہ لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، اور انہیں گرم پانی پلایا جائے گا، چنانچہ وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا ؟ |
| ابو الاعلی مودودی | پرہیز گاروں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہو گا، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی اُس میں اُن کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور اُن کے رب کی طرف سے بخشش (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے) اُن لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟ |
| احمد رضا خان | احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے ہے، اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور اپنے رب کی مغفرت کیا ایسے چین والے ان کی برابر ہوجائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے، |
| احمد علی | اس جنت کی کیفیت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے (یہ ہے) کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہو گی جو بگڑنے والا نہیں اور کچھ دودھ کی نہریں جن کا مزہ کبھی نہیں بدلے گا اور کچھ نہریں ایسے شراب کی جو پینے والوں کے لیے خوش ذائقہ ہو گا اور کچھ نہریں صاف شہد کی اور ان کے لیے وہاں ہر قسم کے میوے ہوں اوراپنے رب کی بخشش (کیا وہ) ان جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا سو وہ ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا |
| فتح جالندھری | جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا۔ اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے۔ اور شہد مصفا کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے۔ (کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (ہوسکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا |
| طاہر القادری | جس جنّت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہوں گی جس میں کبھی (بو یا رنگت کا) تغیّر نہ آئے گا، اور (اس میں ایسے) دودھ کی نہریں ہوں گی جس کا ذائقہ اور مزہ کبھی نہ بدلے گا، اور (ایسے) شرابِ (طہور) کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے سراسر لذّت ہے، اور خوب صاف کئے ہوئے شہد کی نہریں ہوں گی، اور ان کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی جانب سے (ہر طرح کی) بخشائش ہوگی، (کیا یہ پرہیزگار) ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور جنہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا، |
| علامہ جوادی | اس جنّت کی صفت جس کا صاحبانِ تقویٰ سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس میں کسی طرح کی بو نہیں ہے اور کچھ نہریں دودھ کی بھی ہیں جن کا مزہ بدلتا ہی نہیں ہے اور کچھ نہریں شراب کی بھی ہیں جن میں پینے والوں کے لئے لذّت ہے اور کچھ نہریں صاف و شفاف شہد کی ہیں اور ان کے لئے ہر طرح کے میوے بھی ہیں اور پروردگار کی طرف سے مغفرت بھی ہے تو کیا یہ متقی افراد ان کے جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ جہّنم میں رہنے والے ہیں اور جنہیں گرما گرم پانی پلایا جائے گا جس سے آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گی |
| ایم جوناگڑھی | اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعده کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بدبو کرنے واﻻ نہیں، اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزه نہیں بدﻻ اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے، کیا یہ مثل اس کے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے واﻻ ہے؟ اور جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا |
| حسین نجفی | وہ جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس میں تغیر نہیں ہوتا اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلتا اور ایسے شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہے اور ایسے شہد کی نہریں ہیں جو صاف شفاف ہے اور ان کیلئے وہاں ہر قسم کے پھل ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے کیا ایسے (پرہیزگار) لوگ ان لوگوں جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور ان کو ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ |
| M.Daryabadi: | A likeness of the Garden which hath been promised to the God-fearing: therein are rivers of water incorruptible, and rivers of milk whereof the flavour changeth not, and rivers of wine: a joy Unto the drinkers; and rivers of honey clarified. theirs therein shall be every kind of fruit, and forgiveness from their Lord. ShAll Persons enjoying such bliss be like Unto those who are abiders in the Fire and are given to drink boiling water so that it mangleth their entrails? |
| M.M.Pickthall: | A similitude of the Garden which those who keep their duty (to Allah) are promised: Therein are rivers of water unpolluted, and rivers of milk whereof the flavour changeth not, and rivers of wine delicious to the drinkers, and rivers of clear-run honey; therein for them is every kind of fruit, with pardon from their Lord. (Are those who enjoy all this) like those who are immortal in the Fire and are given boiling water to drink so that it teareth their bowels? |
| Saheeh International: | Is the description of Paradise, which the righteous are promised, wherein are rivers of water unaltered, rivers of milk the taste of which never changes, rivers of wine delicious to those who drink, and rivers of purified honey, in which they will have from all [kinds of] fruits and forgiveness from their Lord, like [that of] those who abide eternally in the Fire and are given to drink scalding water that will sever their intestines? |
| Shakir: | A parable of the garden which those guarding (against evil) are promised: Therein are rivers of water that does not alter, and rivers of milk the taste whereof does not change, and rivers of drink delicious to those who drink, and rivers of honey clarified and for them therein are all fruits and protection from their Lord. (Are these) like those who abide in the fire and who are made to drink boiling water so it rends their bowels asunder. |
| Yusuf Ali: | (Here is) a Parable of the Garden which the righteous are promised: in it are rivers of water incorruptible; rivers of milk of which the taste never changes; rivers of wine, a joy to those who drink; and rivers of honey pure and clear. In it there are for them all kinds of fruits; and Grace from their Lord. (Can those in such Bliss) be compared to such as shall dwell for ever in the Fire, and be given, to drink, boiling water, so that it cuts up their bowels (to pieces)? |
آیت کے متعلق اہم نقاط
علمی ایت
جنت کے اوصاف