Chapter No 26-پارہ نمبر    ‹    The Wind-curved Sandhills-46 سورت الاحقاف ›Ayah No-17 ایت نمبر
| وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ |
| آسان اُردو | اور جو اپنے والدین سے کہتا ہے: تم دونوں پر اُف ہے. (یعنی بیزاری کا اظہار کرتا ہے). کیا تم مجھے ڈراتے ہو کہ میں (دوبارہ قبر سے) نکالا جاؤں گا اور مجھ سے پہلے کئی نسلیں گزر (مر) چکی ہیں؟ اور وہ دونوں (ماں اور باپ) اللہ سے مدد مانگتے ہیں (اور کہتے ہیں): اوہ تم پر افسوس ہے! ایمان لے آؤ! بے شک! اللہ کا وعدہ سچا ہے. پھروہ کہتا ہے: یہ کچھ نہیں ہے ماسوائے پہلے قصوں کے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور ایک وہ شخص ہے جس نے اپنے والدین سے کہا ہے کہ : تف ہے تم پر۔ کیا تم مجھ سے یہ وعدہ کرتے ہو کہ مجھے زندہ کر کے قبر سے نکالا جائے گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں۔ اور والدین اللہ سے فریاد کرتے ہیں۔ (اور بیٹے سے کہتے ہیں کہ) افسوس ہے تجھ پر۔ ایمان لے آ۔ یقین جان کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو وہ کہتا ہے کہ : ان باتوں کی اس کے سوا کوئی حقیقت نہیں ہے کہ یہ محض افسانے ہیں جو پچھلے لوگوں سے نقل ہوتے چلے آرہے ہیں۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا "اُف، تنگ کر دیا تم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (اُن میں سے تو کوئی اٹھ کر نہ آیا)" ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کر کہتے ہیں "ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے" مگر وہ کہتا ہے "یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں" |
| احمد رضا خان | اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اُف تم سے دل پک گیا (بیزار ہے) کیا مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ پھر زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ پر سے پہلے سنگتیں گزر چکیں اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیری خرابی ہو ایمان لا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو کہتا ہے یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں |
| احمد علی | اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم پر تف ہے کیاتم مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ میں قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر گئیں اور وہ دونوں الله سے فریاد کر رہے ہیں کہ ارے تیرا ناس ہو ایمان لا بے شک الله کاوعدہ سچا ہے پھر وہ کہتا ہے یہ ہے کیا مگر پہلوں کے افسانے |
| فتح جالندھری | اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اُف اُف! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤں گا حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اور وہ دونوں خدا کی جناب میں فریاد کرتے (ہوئے کہتے) تھے کہ کم بخت ایمان لا۔ خدا کا وعدہ تو سچا ہے۔ تو کہنے لگا یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں |
| طاہر القادری | اور جس نے اپنے والدین سے کہا: تم سے بیزاری ہے، تم مجھے (یہ) وعدہ دیتے ہو کہ میں (قبر سے دوبارہ زندہ کر کے) نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکیں۔ اب وہ دونوں (ماں باپ) اللہ سے فریاد کرنے لگے (اور لڑکے سے کہا:) تو ہلاک ہوگا۔ (اے لڑکے!) ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ تو وہ (جواب میں) کہتا ہے: یہ (باتیں) اگلے لوگوں کے جھوٹے افسانوں کے سوا (کچھ) نہیں ہیں، |
| علامہ جوادی | اور جس نے اپنے ماں باپ سے یہ کہا کہ تمہارے لئے حیف ہے کہ تم مجھے اس بات سے ڈراتے ہو کہ میں دوبارہ قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں اور وہ دونوں فریاد کررہے تھے کہ یہ بڑی افسوس ناک بات ہے بیٹا ایمان لے آ - خدا کا وعدہ بالکل سچا ہے تو کہنے لگا کہ یہ سب پرانے لوگوں کے افسانے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم سے میں تنگ آگیا، تم مجھ سے یہی کہتے رہو گے کہ میں مرنے کے بعد پھر زنده کیا جاؤں گا مجھ سے پہلے بھی امتیں گزر چکی ہیں، وه دونوں جناب باری میں فریادیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں تجھے خرابی ہو تو ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعده حق ہے، وه جواب دیتا ہے کہ یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں |
| حسین نجفی | اور جس نے اپنے والدین سے کہا تُف ہے تم پر کیا تم دونوں مجھ سے وعدہ کرتے ہو کہ میں (دوبارہ قبر سے) نکالا جاؤں گا۔ حالانکہ مجھ سے پہلے کئی نسلیں گزر چکی ہیں (اور کوئی ایک بھی زندہ نہ ہوا) اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں (اور کہتے ہیں) وائے ہو تجھ پر ایمانلے آ۔ بےشک اللہ کا وعدہ سچاہے(مگر) وہ کہتا ہے کہ یہ سب اگلے لوگوں کی (پرانی) کہانیاں ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | And whoso saith unto his parents: Fie upon you both! Do ye threaten me that I shall be brought forth (again) when generations before me have passed away? And they twain cry unto Allah for help (and say): Woe unto thee! Believe! Lo! the promise of Allah is true. But he saith: This is naught save fables of the men of old: |
| M.M.Pickthall: | And whoso saith unto his parents: Fie upon you both! Do ye threaten me that I shall be brought forth (again) when generations before me have passed away? And they twain cry unto Allah for help (and say): Woe unto thee! Believe! Lo! the promise of Allah is true. But he saith: This is naught save fables of the men of old: |
| Saheeh International: | But one who says to his parents, "Uff to you; do you promise me that I will be brought forth [from the earth] when generations before me have already passed on [into oblivion]?" while they call to Allah for help [and to their son], "Woe to you! Believe! Indeed, the promise of Allah is truth." But he says, "This is not but legends of the former people" - |
| Shakir: | And he who says to his parents: Fie on you! do you threaten me that I shall be brought forth when generations have already passed away before me? And they both call for Allah's aid: Woe to you! believe, surely the promise of Allah is true. But he says: This is nothing but stories of the ancients. |
| Yusuf Ali: | But (there is one) who says to his parents, "Fie on you! Do ye hold out the promise to me that I shall be raised up, even though generations have passed before me (without rising again)?" And they two seek Allah's aid, (and rebuke the son): "Woe to thee! Have faith! for the promise of Allah is true." But he says, "This is nothing but tales of the ancients!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے