Chapter No 25-پارہ نمبر    ‹                   Council-42 سورت الشوری ›Ayah No-14 ایت نمبر
| وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ |
| آسان اُردو | اور اُنہوں نے اختلاف نہ کیا ماسوائے اپنے درمیان مخالفت کر کے بعد اس کے کہ جو علم اُن کے پاس آ بھی گیا تھا اور اگر نہ ہوتا ایک کلمہ(لفظ) ایک مقررہ مدت تک کاجو آپﷺ کے رب سے ادا ہو چکا تھا، تو ان کے درمیان واقعی فیصلہ کر دیا جاتا. اور بے شک جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب کا وارث بنایا گیا ہے، وہ اس (کتاب) سے واقعی ایک فضول شک میں ہیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور لوگوں نے آپس کی عداوتوں کی وجہ سے (دین میں) جو تفرقہ ڈالا ہے وہ اس کے بعد ہی ڈالا ہے جب ان کے پاس یقینی علم آچکا تھا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معین مدت تک کے لیے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوتی تو ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ اور ان لوگوں کے بعد جن کو کتاب کا وارث بنایا گیا ہے وہ اس کے بارے میں ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے انہیں خلجان میں ڈال رکھا ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | لوگوں میں جو تفرقہ رو نما ہوا وہ اِس کے بعد ہوا کہ اُن کے پاس علم آ چکا تھا، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے اگر تیرا رب پہلے ہی یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں |
| احمد رضا خان | اور انہوں نے پھوٹ نہ ڈالی مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا تھا آپس کے حسد سے اور اگر تمہارے رب کی ایک بات گزر نہ چکی ہوتی ایک مقرر میعاد تک تو کب کا ان میں فیصلہ کردیا ہوتا اور بیشک وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں |
| احمد علی | اور اہلِ کتاب جوجدا جدا فرقے ہوئے تو علم آنے کے بعد اپنی باہمی ضد سے ہوئے اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر (قیامت) تک کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ ہوگیا ہوتا اور جو ان کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے ہیں (زمانہِ نبوی کے اہل کتاب) وہ اس (دین) کی نسبت حیرت انگیز شک میں ہیں |
| فتح جالندھری | اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں |
| طاہر القادری | اور انہوں نے فرقہ بندی نہیں کی تھی مگر اِس کے بعد جبکہ اُن کے پاس علم آچکا تھا محض آپس کی ضِد (اور ہٹ دھرمی) کی وجہ سے، اور اگر آپ کے رب کی جانب سے مقررہ مدّت تک (کی مہلت) کا فرمان پہلے صادر نہ ہوا ہوتا تو اُن کے درمیان فیصلہ کیا جا چکا ہوتا، اور بیشک جو لوگ اُن کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے تھے وہ خود اُس کی نسبت فریب دینے والے شک میں (مبتلا) ہیں، |
| علامہ جوادی | اور ان لوگوں نے آپس میں تفرقہ اسی وقت پیدا کیا ہے جب ان کے پاس علم آچکا تھا اور یہ صرف آپس کی دشمنی کی بنا پر تھا اور اگر پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے ایک مدّت کے لئے طے نہ ہوگئی ہوتی تو اب تک ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور بیشک جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب کا وارث بنایا گیا ہے وہ اس کی طرف سے سخت شک میں پڑے ہوئے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | ان لوگوں نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد ہی اختلاف کیا (اور وه بھی) باہمی ضد بحﺚ سے اور اگر آپ کے رب کی بات ایک وقت مقرر تک کے لیے پہلے ہی سے قرار پا گئی ہوئی نہ ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے وه بھی اس کی طرف سے الجھن والے شک میں پڑے ہوئے ہیں |
| حسین نجفی | اور وہ لوگ تفرقہ میں نہیں پڑے مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا یہ (تفرقہ) محض باہمی ضدا ضدی (اور باہمی حسد) سے ہے اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے یہ بات طے نہ ہوچکی ہوتی کہ ان لوگوں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دی جائے تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کے بارے میں اضطراب انگیز شک میں گرفتار ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | And they divided not until after knowledge had come to them, through spite between themselves; And had not a word gone forth from thy Lord for an appointed term, the affair would surely have been judged between them. And verily those who have been made inheritors of the Book after them are in doubt thereof dubitating. |
| M.M.Pickthall: | And they were not divided until after the knowledge came unto them, through rivalry among themselves; and had it not been for a Word that had already gone forth from thy Lord for an appointed term, it surely had been judged between them. And those who were made to inherit the Scripture after them are verily in hopeless doubt concerning it. |
| Saheeh International: | And they did not become divided until after knowledge had come to them - out of jealous animosity between themselves. And if not for a word that preceded from your Lord [postponing the penalty] until a specified time, it would have been concluded between them. And indeed, those who were granted inheritance of the Scripture after them are, concerning it, in disquieting doubt. |
| Shakir: | And they did not become divided until after knowledge had come to them out of envy among themselves; and had not a word gone forth from your Lord till an appointed term, certainly judgment would have been given between them; and those who were made to inherit the Book after them are most surely in disquieting doubt concerning it. |
| Yusuf Ali: | And they became divided only after Knowledge reached them,- through selfish envy as between themselves. Had it not been for a Word that went forth before from thy Lord, (tending) to a Term appointed, the matter would have been settled between them: But truly those who have inherited the Book after them are in suspicious (disquieting) doubt concerning it. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
علمی ایت
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے