Chapter No 24-پارہ نمبر    ‹                   Fusilat-41 سورت حم السجدۃ ›Ayah No-44 ایت نمبر
| وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ ۧ |
| آسان اُردو | اور اگر ہم نے اس کو بنایا ہوتا ایک عجمی (بیرونی زبان کا)قرآن تو وہ(کافرین) واقعی کہہ دیتے:کہ کیوں اس کی آیات تفصیل سے بیان نہیں کی گئیں (تاکہ ہم اس کو سمجھ جاتے)؟ کیا! عجمی(زبان) اور عربی؟۔۔۔(آپﷺ اُن سے) کہیں: وہ (قرآن) اُن لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں ہدایت اور شفاء ہے؛ اور وہ لوگ جو(اس پر) ایمان نہیں رکھتے ہیں، اُن کے کانوں میں ایک بہرہ پن ہے، اور وہ(قرآن) اُن پر اندھا پن ہے.یہی(لوگ) ہیں (کہ)ان کو (جیسے) بہت دور سے بلایا جاتا ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور اگر ہم اس (قرآن) کو عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ : اس کی آیتیں کھول کھول کر کیوں نہیں بیان کی گئیں ؟ یہ کیا بات ہے کہ قرآن عجمی ہے اور پیغمبر عربی ؟ کہہ دو کہ جو لوگ ایمان لائیں، ان کے لیے یہ ہدایت اور شفا کا سامان ہے اور جو ایمان نہیں لاتے، ان کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے اور یہ (قرآن) ان کے لیے اندھیرے میں بھٹکنے کا سامان ہے۔ ایسے لوگوں کو کسی دور دراز جگہ سے پکارا جا رہا ہے |
| ابو الاعلی مودودی | اگر ہم اِس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے "کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی" اِن سے کہو یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے اُن کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے اُن کا حال تو ایسا ہے جیسے اُن کو دور سے پکارا جا رہا ہو |
| احمد رضا خان | اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن کرتے تو ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں کیوں نہ کھولی گئیں کیا کتاب عجمی اور نبی عربی تم فرماؤ وہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے اور وہ ان پر اندھا پن ہے گویا وہ دور جگہ سے پکارے جاتے ہیں |
| احمد علی | اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن بنا دیتے توکہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف بیان کیوں نہیں کی گئیں کیا عجمی کتاب اور عربی رسول کہہ دو یہ ایمان داروں کے لیے ہدایت اور شفا ہے او رجو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کان بہرے ہیں اور وہ قرآن ان کے حق میں نابینائی ہے وہ لوگ (گو یاکہ) دور جگہ سے پکارے جا رہے ہیں |
| فتح جالندھری | اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں۔ کیا (خوب کہ قرآن تو) عجمی اور (مخاطب) عربی۔ کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے۔ اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے۔ گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے |
| طاہر القادری | اور اگر ہم اس (کتاب) کو عجمی زبان کا قرآن بنا دیتے تو یقیناً یہ کہتے کہ اِس کی آیتیں واضح طور پر بیان کیوں نہیں کی گئیں، کیا کتاب عجمی ہے اور رسول عربی ہے (اِس لئے اے محبوبِ مکرّم! ہم نے قرآن بھی آپ ہی کی زبان میں اتار دیا ہے۔) فرما دیجئے: وہ (قرآن) ایمان والوں کے لئے ہدایت (بھی) ہے اور شفا (بھی) ہے اور جو لوگ ایمان نہیں رکھتے اُن کے کانوں میں بہرے پن کا بوجھ ہے وہ اُن کے حق میں نابینا پن (بھی) ہے (گویا) وہ لوگ کسی دور کی جگہ سے پکارے جاتے ہیں، |
| علامہ جوادی | اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی زبان میں نازل کردیتے تو یہ کہتے کہ اس کی آیتیں واضح کیوں نہیں ہیں اور یہ عجمی کتاب اور عربی انسان کا ربط کیا ہے. تو آپ کہہ دیجئے کہ یہ کتاب صاحبان ه ایمان کے لئے شفا اور ہدایت ہے اور جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ہیں ان کے کانوں میں بہرا پن ہے اور وہ ان کو نظر بھی نہیں آرہا ہے اور ان لوگوں کو بہت دور سے پکارا جائے گا |
| ایم جوناگڑھی | اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن بناتے تو کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف بیان کیوں نہیں کی گئیں؟ یہ کیا کہ عجمی کتاب اور آپ عربی رسول؟ آپ کہہ دیجئے! کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفا ہے اور جو ایمان نہیں ﻻتے ان کے کانوں میں تو (بہراپن اور) بوجھ ہے اور یہ ان پر اندھاپن ہے، یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں |
| حسین نجفی | اگر ہم اس (قرآن) کو عجمی زبان میں بنا کر نازل کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف (کھول کر) کیوں بیان نہیں کی گئیں؟ آپ(ص) کہہ دیجئے کہ یہ ایمان لانے والوں کیلئے ہدایت اور شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (بہرہ پن) ہے اور وہ ان کے حق میں نابینائی ہے اور یہ لوگ (بہرہ پن کی وجہ سے گویا) بہت دور راستہ کی جگہ سے پکارے جا رہے ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | And had We made it a recital in a foreign tongue, they would have surely said: wherefore are the verses thereof not detailed? A foreign tongue and an Arab! Say thou: Unto those who have believed it is a guidance and a healing: and those who believe not, - in their ears there is a heaviness, and Unto them it is blindness. These are they who are cried Unto from a place far-off. |
| M.M.Pickthall: | And if We had appointed it a Lecture in a foreign tongue they would assuredly have said: If only its verses were expounded (so that we might understand)? What! A foreign tongue and an Arab? - Say unto them (O Muhammad): For those who believe it is a guidance and a healing; and as for those who disbelieve, there is a deafness in their ears, and it is blindness for them. Such are called to from afar. |
| Saheeh International: | And if We had made it a non-Arabic Qur'an, they would have said, "Why are its verses not explained in detail [in our language]? Is it a foreign [recitation] and an Arab [messenger]?" Say, "It is, for those who believe, a guidance and cure." And those who do not believe - in their ears is deafness, and it is upon them blindness. Those are being called from a distant place. |
| Shakir: | And if We had made it a Quran in a foreign tongue, they would certainly have said: Why have not its communications been made clear? What! a foreign (tongue) and an Arabian! Say: It is to those who believe a guidance and a healing; and (as for) those who do not believe, there is a heaviness in their ears and it is obscure to them; these shall be called to from a far-off place. |
| Yusuf Ali: | Had We sent this as a Qur'an (in the language) other than Arabic, they would have said: "Why are not its verses explained in detail? What! (a Book) not in Arabic and (a Messenger an Arab?" Say: "It is a Guide and a Healing to those who believe; and for those who believe not, there is a deafness in their ears, and it is blindness in their (eyes): They are (as it were) being called from a place far distant!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد ایت
مقام قران