اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 24-پارہ نمبر                      The Believer-40 سورت المومن Ayah No-11 ایت نمبر

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ
آسان اُردو وہ کہیں گے: ہمارے رب! تُو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ تُو نے ہمیں زندہ کیاپس ہم اپنے گناہوں کو مانتے ہیں. پھرکیا(یہاں سے) باہر نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت اور دو مرتبہ زندگی دی، اب ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، تو کیا (ہمارے دوزخ سے) نکلنے کا کوئی راستہ ہے ؟
ابو الاعلی مودودی وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، تو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی، اب ہم اپنے قصوروں کا اعتراف کرتے ہیں، کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟"
احمد رضا خان کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دوبارہ مردہ کیا اور دوبارہ زندہ کیا اب ہم اپنے گناہوں پر مُقِر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے
احمد علی وہ کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دو بار موت دی اورتو نے ہمیں دوبارہ زندہ کیا پس ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا پس کیا نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے
فتح جالندھری وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی۔ ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟
طاہر القادری وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور تو نے ہمیں دو بار (ہی) زندگی بخشی، سو (اب) ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، پس کیا (عذاب سے بچ) نکلنے کی طرف کوئی راستہ ہے،
علامہ جوادی وہ لوگ کہیں گے پروردگار تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندگی عطا کی تو اب ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے تو کیا اس سے بچ نکلنے کی کوئی سبیل ہے
ایم جوناگڑھی وه کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دوبار مارا اور دو بار ہی جلایا، اب ہم اپنے گناہوں کے اقراری ہیں، تو کیا اب کوئی راه نکلنے کی بھی ہے؟
حسین نجفی وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار زندہ کیا بس اب ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کیا اب (یہاں سے) نکلنے کی کوئی صورت ہے؟
=========================================
M.Daryabadi: They will say: our Lord! Thou hast made us die twice, and Thou hast made us live twice now We confess our sins: there no getting out any way?
M.M.Pickthall: They say: Our Lord! Twice hast Thou made us die, and twice hast Thou made us live. Now we confess our sins. Is there any way to go out?
Saheeh International: They will say, "Our Lord, You made us lifeless twice and gave us life twice, and we have confessed our sins. So is there to an exit any way?"
Shakir: They shall say: Our Lord! twice didst Thou make us subject to death, and twice hast Thou given us life, so we do confess our faults; is there then a way to get out?
Yusuf Ali: They will say: "Our Lord! twice hast Thou made us without life, and twice hast Thou given us Life! Now have we recognised our sins: Is there any way out (of this)?"
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

قیامت کے دن کے بعد کی بات
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
٭(دو دفعہ موت: پیدا ہونے پہلِے انسان مردہ ہوتا ہے، اور زندگی گذارنے کے بعد مر جاتا ہے.، دو دفعہ زندہ ہونا: ایک دفعہ دنیا میں اور دوسرا مر کر)