Chapter No 22-پارہ نمبر    ‹           The Angels-35 سورت فاطر ›Ayah No-43 ایت نمبر
| اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا |
| آسان اُردو | زمین میں تکبر کرتے ہوئے اور برائی کی تدبیرکرتے ہوئے؛ اور برائی کی تدبیر نہیں پکڑتی ماسوائے اُس کے کرنے والوں کوہی. پھر کیا وہ انتظار کرتے ہیں ماسوائے پہلے والوں کے طریقے کا؟ پھر آپﷺ اللہ کے طریقہ (سنت) کے لیے میں کوئی تبدیلی ہر گز نہیں پائیں گے، اور نہ ہی آپﷺ اللہ کے طریقہ کے لیے تبدیلی کرنے کی کسی کے پاس بھی ہر گز طاقت پائیں گے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اس لیے کہ انہیں زمین میں اپنی بڑائی کا گھمنڈ تھا، اور انہوں نے (حق کی مخالفت میں) بری بری چالیں چلنی شروع کردیں۔ حالانکہ بری چالیں کسی اور کو نہیں خود اپنے چلنے والوں ہی کو گھیرے میں لے لیتی ہیں۔ اب یہ لوگ اس دستور کے سوا کس بات کے منتظر ہیں جس پر پچھلے لوگوں کے ساتھ عمل ہوتا آیا ہے ؟ (اگر یہ بات ہے) تو تم اللہ کے طے شدہ دستور میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے، اور نہ تم اللہ کے طے شدہ دستور کو کبھی ٹلتا ہوا پاؤ گے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | یہ زمین میں اور زیادہ استکبار کرنے لگے اور بری بری چالیں چلنے لگے، حالانکہ بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں اب کیا یہ لوگ اِس کا انتظار کر رہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اللہ کا جو طریقہ رہا ہے وہی اِن کے ساتھ بھی برتا جائے؟ یہی بات ہے تو تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سنت کو اس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے |
| احمد رضا خان | اپنی جان کو زمین میں اونچا کھینچنا اور برا داؤں اور برا داؤں (فریب) اپنے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے تو کا ہے کے انتظار میں ہیں مگر اسی کے جو اگلوں کا دستور ہوا تو تم ہرگز اللہ کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے اور ہرگز اللہ کے قانون کو ٹلتا نہ پاؤ گے، |
| احمد علی | کہ ملک میں سرکشی اور بری تدبیریں کرنے لگ گئے اور بری تدبیر تو تدبیرکرنے والے ہی پر لٹ پڑتی ہے پھر کیا وہ اسی برتاؤ کے منتظر ہیں جو پہلے لوگوں سے برتا گیا پس تو الله کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا اورتو الله کے قانوں میں کوئی تغیر نہیں پائے گا |
| فتح جالندھری | یعنی (انہوں نے) ملک میں غرور کرنا اور بری چال چلنا (اختیار کیا) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ یہ اگلے لوگوں کی روش کے سوا اور کسی چیز کے منتظر نہیں۔ سو تم خدا کی عادت میں ہرگز تبدل نہ پاؤ گے۔ اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے |
| طاہر القادری | (انہوں نے) زمین میں اپنے آپ کو سب سے بڑا سمجھنا اور بری چالیں چلنا (اختیار کیا)، اور برُی چالیں اُسی چال چلنے والے کو ہی گھیر لیتی ہیں، سو یہ اگلے لوگوں کی رَوِشِ (عذاب) کے سوا (کسی اور چیز کے) منتظر نہیں ہیں۔ سو آپ اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے، اور نہ ہی اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی پھرنا پائیں گے، |
| علامہ جوادی | یہ زمین میں استکبار اور بڑی چالوں کا نتیجہ ہے حالانکہ بڑی چالیں چالباز ہی کو اپنے گھیرے میں لے لیتی ہیں تو اب یہ گزشتہ لوگوں کے بارے میں خدا کے طریقہ کار کے علاوہ کسی چیز کا انتظار نہیں کررہے ہیں اور خدا کا طریقہ کار بھی نہ بدلنے والا ہے اور نہ اس میں کسی طرح کا تغیر ہوسکتا ہے |
| ایم جوناگڑھی | دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے، اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے، سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ سو آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے، اور آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے |
| حسین نجفی | زمین میں سرکشی کرنے اور بری سازشیں کرنے میں اضافہ ہی کیا حالانکہ بری سازشیں تو اس کو گھیرتی ہیں جو بری سازش کرتا ہے سو کیا اب یہ لوگ پہلے والے لوگوں کے ساتھ خدا کے طریقۂ کار کا انتظار کر رہے ہیں (کہ ان کے ساتھ بھی وہی ہو) تم خدا کے دستور (طریقۂ کار) میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤگے (کہ مقررہ قاعدے سے پھر جائے)۔ |
| M.Daryabadi: | Through their stiff-neckedness in the land, And the plotting of evil only infoldeth the authors thereof. Wait they, then, but the dispensation of the ancients? And thou wilt not find in dispensation of Allah a change, nor wilt thou find in dispensation of Allah a turning off |
| M.M.Pickthall: | (Shown in their) behaving arrogantly in the land and plotting evil; and the evil plot encloseth but the men who make it. Then, can they expect aught save the treatment of the folk of old? Thou wilt not find for Allah's way of treatment any substitute, nor wilt thou find for Allah's way of treatment aught of power to change. |
| Saheeh International: | [Due to] arrogance in the land and plotting of evil; but the evil plot does not encompass except its own people. Then do they await except the way of the former peoples? But you will never find in the way of Allah any change, and you will never find in the way of Allah any alteration. |
| Shakir: | (In) behaving proudly in the land and in planning evil; and the evil plans shall not beset any save the authors of it. Then should they wait for aught except the way of the former people? For you shall not find any alteration in the course of Allah; and you shall not find any change in the course of Allah. |
| Yusuf Ali: | On account of their arrogance in the land and their plotting of Evil, but the plotting of Evil will hem in only the authors thereof. Now are they but looking for the way the ancients were dealt with? But no change wilt thou find in Allah's way (of dealing): no turning off wilt thou find in Allah's way (of dealing). |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
منفرد ایت
علمی ایت
٭کسی کے خلاف برائی کا منصوبہ بنانے والا خود اس برائی کا شکار ہو جاتا ہے. اللہ کے طریقہ کار میں نہ کوئی تبدیلی اور نہ کوئی اس طریقہ کار کو تحویل میں
لیکر اپنی مرضی سے اس میں تبدیلی کر سکتا ہے. صرف وہی ہی باری تعالی قادر کریم ہے.