Chapter No 22-پارہ نمبر    ‹           The Angels-35 سورت فاطر ›Ayah No-12 ایت نمبر
| وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ |
| آسان اُردو | اور دونوں سمندر (یا پانی) برابر نہیں،:یہ تو تازہ میٹھا، اُس کا پانی ذائقہ دار، اور یہ (دوسرا) کڑوا نمکین ہے. اور ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اورتم زیورات نکالتے ہو اُن کو تم پہنتے ہو. اور تم بحری جہازوں (کشتیوں) کو ا س (سمندر) میں (پانی کو) چیرتے ہوئے دیکھتے ہو تاکہ تم اُس کے فضل سے تلاش کر سکو، اور شاید تم شکر کرو |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور دو دریا برابر نہیں ہوتے۔ ایک ایسا میٹھا ہے کہ اس سے پیاس بجھتی ہے، جو پینے میں خوشگوار ہے اور دوسرا کڑوا نمکین۔ اور ہر ایک سے تم (مچھلیوں کا) تازہ گوشت کھاتے ہو، اور وہ زیور نکالتے ہو جو تمہارے پہننے کے کام آتا ہے۔ اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ وہ اس (دریا) میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں، تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ شکر گزار بنو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اور پانی کے دونوں ذخیرے یکساں نہیں ہیں ایک میٹھا اور پیاس بجھانے والا ہے، پینے میں خوشگوار، اور دوسرا سخت کھاری کہ حلق چھیل دے مگر دونوں سے تم تر و تازہ گوشت حاصل کرتے ہو، پہننے کے لیے زینت کا سامان نکالتے ہو، اور اسی پانی میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اُس کا سینہ چیرتی چلی جا رہی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اُس کے شکر گزار بنو |
| احمد رضا خان | اور دونوں سمندر ایک سے نہیں یہ میٹھا ہے خوب میٹھا پانی خوشگوار اور یہ کھاری ہے تلخ اور ہر ایک میں سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت اور نکالتے ہو پہننے کا ایک گہنا (زیور) اور تو کشتیوں کو اس میں دیکھے کہ پانی چیرتی ہیں تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور کسی طرح حق مانو |
| احمد علی | اور دو سمندر برا بر نہیں ہوتے یہ ایک میٹھا پیاس بجھانے والا ہے کہ ا سکا پینا خوشگوار ہے اور یہ دوسرا کھاری کڑوا ہے اور ہر ایک میں سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جو تم پہنتے ہو اور تو جہازوں کو دیکھتا ہے کہ اس میں پانی کو پھاڑتے جاتے ہیں تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ اس کا شکر کرو |
| فتح جالندھری | اور دونوں دریا (مل کر) یکساں نہیں ہوجاتے۔ یہ تو میٹھا ہے پیاس بجھانے والا۔ جس کا پانی خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے کڑوا۔ اور سب سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے پہنتے ہو۔ اور تم دریا میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ (پانی کو) پھاڑتی چلی آتی ہیں تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو |
| طاہر القادری | اور دو سمندر (یا دریا) برابر نہیں ہو سکتے، یہ (ایک) شیریں، پیاس بجھانے والا ہے، اس کا پینا خوشگوار ہے اور یہ (دوسرا) کھاری، سخت کڑوا ہے، اور تم ہر ایک سے تازہ گوشت کھاتے ہو، اور زیور (جن میں موتی، مرجان اور مونگے وغیرہ سب شامل ہیں) نکالتے ہو، جنہیں تم پہنتے ہو اور تُو اس میں کشتیوں (اور جہازوں) کو دیکھتا ہے جو (پانی کو) پھاڑتے چلے جاتے ہیں تاکہ تم (بحری تجارت کے راستوں سے) اس کا فضل تلاش کر سکو اور تاکہ تم شکرگزار ہو جاؤ، |
| علامہ جوادی | اور دو سمندر ایک جیسے نہیں ہوسکتے ایک کا پانی میٹھا اور خوشگوار ہے اور ایک کا کھارا اور کڑوا ہے اور تم دونوں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اور ایسے زیورات برآمد کرتے ہو جو تمہارے پہننے کے کام آتے ہیں اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ سمندر کا سینہ چیرتی چلی جاتی ہیں تاکہ تم فضل خدا تلاش کرسکو اور شاید اسی طرح شکر گزار بھی بن سکو |
| ایم جوناگڑھی | اور برابر نہیں دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھاتا پینے میں خوشگوار اور یہ دوسرا کھاری ہے کڑوا، تم ان دونوں میں سے تازه گوشت کھاتے ہو اور وه زیوارت نکالتے ہو جنہیں تم پہنتے ہو۔ اور آپ دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی کشتیاں پانی کو چیرنے پھاڑنے والی ان دریاؤں میں ہیں تاکہ تم اس کا فضل ڈھونڈو اور تاکہ تم اس کا شکر کرو |
| حسین نجفی | اور پانی کے دونوں (ذخیرے) برابر نہیں ہیں یہ ایک میٹھا پیاس بجھانے والا ہے (اور) پینے میں خوشگوار اور دوسرا سخت کھاری اور کڑوا ہے اور تم ہر ایک سے تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور برآمد کرکے پہنتے ہو اور تم اس کی کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ وہ پانی کو چیرتی پھاڑتی چلی جاتی ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل (رزق) تلاش کرو اور تاکہ شکر گزار بنو۔ |
| M.Daryabadi: | And the two seas are not alike: this, sweet, thirst- quenching, pleasant to drink; and that, saltish and bitter. And yet from each ye eat flesh fresh and bring forth the ornaments that ye wear. And thou seest therein ships cleaving the water, that ye may seek of His graCe, and that haply ye may give thanks. |
| M.M.Pickthall: | And the two seas are not alike: this, fresh, sweet, good to drink, this (other) bitter, salt. And from them both ye eat fresh meat and derive the ornament that ye wear. And thou seest the ship cleaving them with its prow that ye may seek of His bounty, and that haply ye may give thanks. |
| Saheeh International: | And not alike are the two bodies of water. One is fresh and sweet, palatable for drinking, and one is salty and bitter. And from each you eat tender meat and extract ornaments which you wear, and you see the ships plowing through [them] that you might seek of His bounty; and perhaps you will be grateful. |
| Shakir: | And the two seas are not alike: the one sweet, that subdues thirst by its excessive sweetness, pleasant to drink; and the other salt, that burns by its saltness; yet from each of them you eat fresh flesh and bring forth ornaments which you wear; and you see the ships cleave through it that you may seek of His bounty and that you may be grateful. |
| Yusuf Ali: | Nor are the two bodies of flowing water alike,- the one palatable, sweet, and pleasant to drink, and the other, salt and bitter. Yet from each (kind of water) do ye eat flesh fresh and tender, and ye extract ornaments to wear; and thou seest the ships therein that plough the waves, that ye may seek (thus) of the Bounty of Allah that ye may be grateful. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد ایت
علمی ایت