Chapter No 22-پارہ نمبر    ‹           The Clans-33 سورت الحزاب ›Ayah No-51 ایت نمبر
| تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا |
| آسان اُردو | آپﷺ، اُن بیویوں میں سے جس کو چاہیں، اُسے الگ (موخر) کر لیں اور جس کو آپﷺ چاہیں اپنی طرف کر لیں، اور جس کو آپﷺ چاہیں اُن میں سے جن کو (پہلے) آپﷺ نے موخر کر دیا تھا، تو پھر بھی آپﷺ پر کوئی گناہ نہیں ہے؛ یہ تو(ایسا کرنا اس چیزکے) قریب ہے؛ کہ اُن (بیویوں) کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ غم نہیں کریں گی، اوروہ سب کی سب خوش ہوں گی، جو آپﷺ اُن کو (پیار، محبت، توجہ) دیں گے. اوراللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ جاننے والانرم مزاج ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | ان بیویوں میں سے تم جس کی باری چاہو ملتوی کردو، اور جس کو چاہو، اپنے پاس رکھو، اور جن کو تم نے الگ کردیا ہو ان میں سے اگر کسی کو واپس بلانا چاہو تو اس میں بھی تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں ہے۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان سب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی، اور انہیں رنج نہیں ہوگا اور تم انہیں جو کچھ دے دو گے اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں گی۔ اور اللہ ان سب باتوں کو جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں اور اللہ علم اور حلم کا مالک ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو، جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو اس معاملہ میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے اِس طرح زیادہ متوقع ہے کہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی، اور جو کچھ بھی تم اُن کو دو گے اس پر وہ سب راضی رہیں گی اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے، اور اللہ علیم و حلیم ہے |
| احمد رضا خان | پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو اور جسے تم نے کنارے کردیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں یہ امر اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غم نہ کریں اور تم انہیں جو کچھ عطا فرماؤ اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں اور اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے، اور اللہ علم و حلم والا ہے، |
| احمد علی | آپ ان میں سے جسے چاہیں چھوڑ دیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور ان میں سے جسے آپ چاہیں جنہیں آپ نے علیحدہ کر دیا تھا تو آپ پر کوئی گناہ نہیں یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غمزدہ نہ ہو اور ان سب کو جو آپ دیں اس پر راضی ہوں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے الله جانتا ہے اورالله جاننے والا بردبار ہے |
| فتح جالندھری | (اور تم کو یہ بھی اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو۔ اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو۔ اسے لے کر سب خوش رہیں۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے |
| طاہر القادری | (اے حبیب! آپ کو اختیار ہے) ان میں سے جِس (زوجہ) کو چاہیں (باری میں) مؤخّر رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس (پہلے) جگہ دیں، اور جن سے آپ نے (عارضی) کنارہ کشی اختیار فرما رکھی تھی آپ انہیں (اپنی قربت کے لئے) طلب فرما لیں تو آپ پر کچھ مضائقہ نہیں، یہ اس کے قریب تر ہے کہ ان کی آنکھیں (آپ کے دیدار سے) ٹھنڈی ہوں گی اور وہ غمگین نہیں رہیں گی اور وہ سب اس سے راضی رہیں گی جو کچھ آپ نے انہیں عطا فرما دیا ہے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑا حِلم والا ہے، |
| علامہ جوادی | ان میں سے جس کو آپ چاہیں الگ کرلیں اور جس کو چاہیں اپنی پناہ میں رکھیں اور جن کو الگ کردیا ہے ان میں سے بھی کسی کو چاہیں تو کوئی حرج نہیں ہے - یہ سب اس لئے ہے تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور یہ رنجیدہ نہ ہوں اور جو کچھ آپ نے دیدیا ہے اس سے خوش رہیں اوراللہ تمہارے دلوں کا حال خوب جانتا ہے اور وہ ہر شے کا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے |
| ایم جوناگڑھی | ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے، اور اگر تو نے ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلالے جنہیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناه نہیں، اس میں اس بات کی زیاده توقع ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه رنجیده نہ ہوں اور جو کچھ بھی تو انہیں دے دے اس پر سب کی سب راضی رہیں۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ (خوب) جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی علم اور حلم واﻻ ہے |
| حسین نجفی | (آپ کو اختیار ہے کہ) اپنی ازواج میں سے جس کو چاہیں دور کر دیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جن کو آپ نے علیٰحدہ کر دیا تھا اگر ان میں سے کسی کو (دوبارہ) طلب کرنا چاہیں تو اس میں بھی آپ کیلئے کوئی مضائقہ نہیں ہے یہ (اختیار جو آپ کو دیا گیا ہے) اس سے قریب تر ہے کہ ان (ازواج) کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور آپ انہیں جو کچھ عطا فرمائیں وہ سب کی سب اس پر خوش ہو جائیں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے اور (بے شک) اللہ بڑا جاننے والا (اور) بڑا بردبار ہے۔ |
| M.Daryabadi: | Thou myest put off such of them as thou wilt, and thou mayest take unto thee such of them as thou wilt; and whomsoever thou desirest if such as thou hadst set aside there is no blame upon thee. This is likelier to cool their eyes and not let them grieve and to keep them pleased with whatsoever thou shalt give every one of them. Allah knoweth that which is in your hearts. and Allah is ever Knowing, Forbearing. |
| M.M.Pickthall: | Thou canst defer whom thou wilt of them and receive unto thee whom thou wilt, and whomsoever thou desirest of those whom thou hast set aside (temporarily), it is no sin for thee (to receive her again); that is better; that they may be comforted and not grieve, and may all be pleased with what thou givest them. Allah knoweth what is in your hearts (O men), and Allah is ever Forgiving, Clement. |
| Saheeh International: | You, [O Muhammad], may put aside whom you will of them or take to yourself whom you will. And any that you desire of those [wives] from whom you had [temporarily] separated - there is no blame upon you [in returning her]. That is more suitable that they should be content and not grieve and that they should be satisfied with what you have given them - all of them. And Allah knows what is in your hearts. And ever is Allah Knowing and Forbearing. |
| Shakir: | You may put off whom you please of them, and you may take to you whom you please, and whom you desire of those whom you had separated provisionally; no blame attaches to you; this is most proper, so that their eyes may be cool and they may not grieve, and that they should be pleased, all of them with what you give them, and Allah knows what is in your hearts; and Allah is Knowing, Forbearing. |
| Yusuf Ali: | Thou mayest defer (the turn of) any of them that thou pleasest, and thou mayest receive any thou pleasest: and there is no blame on thee if thou invite one whose (turn) thou hadst set aside. This were nigher to the cooling of their eyes, the prevention of their grief, and their satisfaction - that of all of them - with that which thou hast to give them: and Allah knows (all) that is in your hearts: and Allah is All-Knowing, Most Forbearing. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت