Chapter No 22-پارہ نمبر    ‹           The Clans-33 سورت الحزاب ›Ayah No-49 ایت نمبر
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا |
| آسان اُردو | اے ایمان والو! جب تم نے مومن عورتوں سے نکاح کیا پھر تم نے اُن کو طلاق دے ڈالی قبل اس کے کہ تم نے اُن کو چُھوا ہو پھر تمہارے لیے اُن (عورتوں) پر کوئی مدت (عدت) نہیں کہ تم اُس(مدت) کو (اُن عورتوں سے)پورا کراؤ. پس اُن کو کچھ فاہدہ (مال) دو اور اُن کو رخصت کروایک اچھی رخصتی سے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اے ایمان والو ! جب تم نے مومن عورتوں سے نکاح کیا ہو، پھر تم نے انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق دے دی ہو، تو ان کے ذمہ تمہاری کوئی عدت واجب نہیں ہے جس کی گنتی تمہیں شمار کرنی ہو۔ لہذا انہیں کچھ تحفہ دے دو ، اور انہیں خوبصورتی سے رخصت کردو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اَے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو لہٰذا انہیں کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو |
| احمد رضا خان | اے ایمان والو! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بے ہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لیے کچھ عدت نہیں جسے گنو تو انہیں کچھ فائدہ دو اور اچھی طرح سے چھوڑ دو |
| احمد علی | اے ایمان والو جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں طلاق دے دو اس سے پہلے کہ تم انہیں چھوو تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں ہے کہ تم ان کی گنتی پوری کرنے لگو سو انہیں کچھ فائدہ دو اور انہیں اچھی طرح سے رخصت کر دو |
| فتح جالندھری | مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرکے ان کو ہاتھ لگانے (یعنی ان کے پاس جانے) سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ۔ ان کو کچھ فائدہ (یعنی خرچ) دے کر اچھی طرح سے رخصت کردو |
| طاہر القادری | اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم انہیں مَس کرو (یعنی خلوتِ صحیحہ کرو) تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدّت (واجب) نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرنے لگو، پس انہیں کچھ مال و متاع دو اور انہیں اچھی طرح حُسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کرو، |
| علامہ جوادی | ایمان والو جب مومنات سے نکاح کرنا اور ان کو ہاتھ لگائے بغیر طلاق دے دینا تو تمہارے لئے کوئی حق نہیں ہے کہ ان سے و عدہ کا مطالبہ کرو لہٰذا کچھ عطیہ دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردینا |
| ایم جوناگڑھی | اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے (ہی) طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو، پس تم کچھ نہ کچھ انہیں دے دو اور بھلے طریق پر انہیں رخصت کر دو |
| حسین نجفی | اے ایمان والو! جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے (مباشرت کرنے) سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت نہیں ہے جسے تم شمار کرو (اور جس کے دنوں کو گنو) لہٰذا انہیں کچھ مال دے کر اور خوبصورتی سے رخصت کر دو۔ |
| M.Daryabadi: | O Ye who believe! when ye marry believing women and then divorce them before ye have touched them, then there is no waiting-period from you incumbent on them that ye should count. So make provision for them and release them with a seemly release. |
| M.M.Pickthall: | O ye who believe! If ye wed believing women and divorce them before ye have touched them, then there is no period that ye should reckon. But content them and release them handsomely. |
| Saheeh International: | O You who have believed, when you marry believing women and then divorce them before you have touched them, then there is not for you any waiting period to count concerning them. So provide for them and give them a gracious release. |
| Shakir: | O you who believe! when you marry the believing women, then divorce them before you touch them, you have in their case no term which you should reckon; so make some provision for them and send them forth a goodly sending forth. |
| Yusuf Ali: | O ye who believe! When ye marry believing women, and then divorce them before ye have touched them, no period of 'Iddat have ye to count in respect of them: so give them a present. And set them free in a handsome manner. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
محکم ایت
٭قرآن میں عورت کا مقام. عورت جب تک کہ واضح فحاشی کی مرتکب نہ ہو، اس کا احترام ہر مسلمان پر فرض کیا گیا ہے