Chapter No 21-پارہ نمبر    ‹           The Prostration-32 سورت السجدۃ ›Ayah No-14 ایت نمبر
| فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ |
| آسان اُردو | چنانچہ (عذاب کو) چکھو! اُس وجہ سے جو تم اس دن کی ملاقات کو بھول چکے تھے، بے شک! ہم بھی تمہیں (آج) بھلا دیتے ہیں. اور ہمیشہ رہنے والا عذاب چکھو اس وجہ سے جو تم (دنیاوی زندگی میں) کیا کرتے تھے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اب (جہنم کا) مزہ چکھو کیونکہ تم نے اپنے اس دن کا سامنا کرنے کو بھلا ڈالا تھا۔ ہم نے (بھی) تمہیں بھلا دیا ہے۔ جو کچھ تم کرتے رہے ہو، اس کے بدلے اب ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | پس اب چکھو مزا اپنی اِس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا، ہم نے بھی اب تمہیں فراموش کر دیا ہے چکھو ہمیشگی کے عذاب کا مزا اپنے کرتوتوں کی پاداش میں" |
| احمد رضا خان | اب چکھو بدلہ اس کا کہ تم اپنے اس دن کی حاضری بھولے تھے ہم نے تمہیں چھوڑ دیا اب ہمیشہ کا عذاب چکھو اپنے کیے کا بدلہ، |
| احمد علی | تو اب اس کا مزہ چکھو کہ تم اپنے اس دن کے آنے کو بھول گئے تھے ہم نے تمہیں بھلا دیا اور اپنے کیے کے بدلہ میں ہمیشہ کا عذاب چکھو |
| فتح جالندھری | سو (اب آگ کے) مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اُس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا (آج) ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے اور جو کام تم کرتے تھے اُن کی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھتے رہو |
| طاہر القادری | پس (اب) تم مزہ چکھو کہ تم نے اپنے اس دن کی پیشی کو بھلا رکھا تھا، بیشک ہم نے تم کو بھلا دیا ہے اور اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے رہے تھے دائمی عذاب چکھتے رہو، |
| علامہ جوادی | لہذا تم لوگ اس بات کا مزہ چکھو کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو اِھلا دیا تھا تو ہم نے بھی تم کو نظرانداز کردیا ہے اب اپنے گزشتہ اعمال کے بدلے دائمی عذاب کا مزہ چکھو |
| ایم جوناگڑھی | اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزه چکھو، ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزه چکھو |
| حسین نجفی | سو اس دن کی حاضری کو بھلا دینے کا (آج) مزا چکھو۔ (اب) ہم نے بھی تمہیں نظر انداز کر دیا ہے اور اپنے برے اعمال کی پاداش میں دائمی عذاب کا مزہ چکھو۔ |
| M.Daryabadi: | So taste ye the sequel, for as much as ye forgat the meeting of this your day, verily We have forgotten you. Taste the torment abiding for that which ye have been working. |
| M.M.Pickthall: | So taste (the evil of your deeds). Forasmuch as ye forgot the meeting of this your day, lo! We forget you. Taste the doom of immortality because of what ye used to do. |
| Saheeh International: | So taste [punishment] because you forgot the meeting of this, your Day; indeed, We have [accordingly] forgotten you. And taste the punishment of eternity for what you used to do." |
| Shakir: | So taste, because you neglected the meeting of this day of yours; surely We forsake you; and taste the abiding chastisement for what you did. |
| Yusuf Ali: | "Taste ye then - for ye forgot the Meeting of this Day of yours, and We too will forget you - taste ye the Penalty of Eternity for your (evil) deeds!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
علمی ایت