Chapter No 21-پارہ نمبر    ‹           The Romans-30 سورت الروم ›Ayah No-39 ایت نمبر
| وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ |
| آسان اُردو | اور جو (مال) تم سود پر دیتے ہو تاکہ یہ (مال) بڑھے لوگوں کے مالوں میں پس وہ (مال) اللہ کے ہاں تو نہیں بڑھتا؛مگر جو کچھ تم زکوۃ اللہ کی رضا کو چاہتے ہوئے دیتے ہو، پس یہی (لوگ) ہیں (کہ) وہ (اپنے مال کو)دوگنے کرتے ہیں |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور یہ جو تم سود دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہو کر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ہے۔ اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے ارادے سے دیتے ہو، تو جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں وہ ہیں جو (اپنے مال کو) کئی گنا بڑھا لیتے ہیں۔ |
| ابو الاعلی مودودی | جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے در حقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں |
| احمد رضا خان | اور تم جو چیز زیادہ لینے کو دو کہ دینے والے کے مال بڑھیں تو وہ اللہ کے یہاں نہ بڑھے گی اور جو تم خیرات دو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تو انہیں کے دُونے ہیں |
| احمد علی | اور جو سود پر تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے سو الله کے ہاں وہ نہیں بڑھتا اور جو زکواة دیتے ہو جس سے الله کی رضا چاہتے ہو سو یہ وہ ہی لوگ ہیں جن کے دونے ہوئے |
| فتح جالندھری | اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰة دیتے ہو اور اُس سے خدا کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجبِ برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں |
| طاہر القادری | اور جو مال تم سود پر دیتے ہو تاکہ (تمہارا اثاثہ) لوگوں کے مال میں مل کر بڑھتا رہے تو وہ اﷲ کے نزدیک نہیں بڑھے گا اور جو مال تم زکوٰۃ (و خیرات) میں دیتے ہو (فقط) اﷲ کی رضا چاہتے ہوئے تو وہی لوگ (اپنا مال عند اﷲ) کثرت سے بڑھانے والے ہیں، |
| علامہ جوادی | اور تم لوگ جوبھی سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں اضافہ ہوجائے تو خدا کے یہاں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ہے ہاں جو زکوِٰ دیتے ہو اور اس میں رضائے خدا کا ارادہ ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کو دگنا چوگنا دے دیا جاتا ہے |
| ایم جوناگڑھی | تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وه اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ اور جو کچھ صدقہ زکوٰة تم اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنے (اورخوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی اپنا دو چند کرنے والے ہیں |
| حسین نجفی | اور جو چیز (روپیہ) تم اس لئے سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں شامل ہوکر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو زکوٰۃ تم خوشنودئ خدا کیلئے دیتے ہو ایسے ہی لوگ اپنا مال (کئی گنا) بڑھانے والے ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | And whatsoever ye give in gift in order that it may increase among the substance of men increaseth not with Allah; and whatsoever ye give in poor-rate seeking the countenance of Allah-then those: they shall, have increase manifold. |
| M.M.Pickthall: | That which ye give in usury in order that it may increase on (other) people's property hath no increase with Allah; but that which ye give in charity, seeking Allah's Countenance, hath increase manifold. |
| Saheeh International: | And whatever you give for interest to increase within the wealth of people will not increase with Allah. But what you give in zakah, desiring the countenance of Allah - those are the multipliers. |
| Shakir: | And whatever you lay out as usury, so that it may increase in the property of men, it shall not increase with Allah; and whatever you give in charity, desiring Allah's pleasure-- it is these (persons) that shall get manifold. |
| Yusuf Ali: | That which ye lay out for increase through the property of (other) people, will have no increase with Allah: but that which ye lay out for charity, seeking the Countenance of Allah, (will increase): it is these who will get a recompense multiplied. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
علمی ایت
سود بلمقبالہ زکوۃ
٭اپنا مال سود پر دیا اور سود کے ذریعے لوگوں کے مال کو لے کر اپنا مال بڑھایا