Chapter No 20-پارہ نمبر    ‹           The Story-28 سورت القصص ›Ayah No-8 ایت نمبر
| فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ |
| آسان اُردو | پھر فرعون کے خاندان نے اُس (بچے) کو (دریا سے) اُٹھا لیا، تاکہ وہ (بچہ)اُن کے لیے دشمن اور غم ہو. بیشک! فرعون اورہامان اور اُن کے لشکر بہت زیادہ گناہگار تھے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اس طرح فرعون کے لوگوں نے اس بچے (یعنی حضرت موسیٰ ؑ) کو اٹھا لیا تاکہ آخر کار وہ ان کے لیے دشمن اور غم کا ذریعہ بنے۔ بیشک فرعون، ہامان اور ان کے لشکر بڑے خطار کار تھے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | آ خرکار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے، واقعی فرعون اور ہامان اور اس کے لشکر (اپنی تدبیر میں) بڑے غلط کار تھے |
| احمد رضا خان | تو اسے اٹھالیا فرعون کے گھر والوں نے کہ وہ ان کا دشمن اور ان پر غم ہو بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے |
| احمد علی | پھر اسے فرعون کے گھر والو ں نے اٹھا لیا تاکہ بالآخر وہ ان کا دشمن اور غم کا باعث بنے بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے |
| فتح جالندھری | تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اُٹھا لیا اس لئے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ اُن کا دشمن اور (ان کے لئے موجب) غم ہو۔ بیشک فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر چوک گئے |
| طاہر القادری | پھر فرعون کے گھر والوں نے انہیں (دریا سے) اٹھا لیا تاکہ وہ (مشیّتِ الٰہی سے) ان کے لئے دشمن اور (باعثِ) غم ثابت ہوں، بیشک فرعون اور ہامان اور ان دونوں کی فوجیں سب خطاکار تھے، |
| علامہ جوادی | پھر فرعون والوںنے اسے اٹھالیا کہ انجام کار ان کا دشمن اور ان کے لئے باعث هرنج و الم بنے .بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر والے سب غلطی پر تھے |
| ایم جوناگڑھی | آخر فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا کہ آخرکار یہی بچہ ان کا دشمن ہوا اور ان کے رنج کا باعﺚ بنا، کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے ہی خطاکار |
| حسین نجفی | چنانچہ فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) اٹھا لیا تاکہ وہ ان کیلئے دشمن اور رنج و غم (کا باعث) بنے۔ بیشک فرعون، ہامان اور دونوں کے لشکر والے خطاکار (اور غلط کار) تھے۔ |
| M.Daryabadi: | And the household of Fir'awn took him Up, that he should become unto them an enemy and a grief. Verily Fir'awn and Haman and their hosts were sinners. |
| M.M.Pickthall: | And the family of Pharaoh took him up, that he might become for them an enemy and a sorrow, Lo! Pharaoh and Haman and their hosts were ever sinning. |
| Saheeh International: | And the family of Pharaoh picked him up [out of the river] so that he would become to them an enemy and a [cause of] grief. Indeed, Pharaoh and Haman and their soldiers were deliberate sinners. |
| Shakir: | And Firon's family took him up that he might be an enemy and a grief for them; surely Firon and Haman and their hosts were wrongdoers. |
| Yusuf Ali: | Then the people of Pharaoh picked him up (from the river): (It was intended) that (Moses) should be to them an adversary and a cause of sorrow: for Pharaoh and Haman and (all) their hosts were men of sin. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
حضرت موسی ؑ، فرعون کے قصے کے بارے میں
تاریخی ایت