Chapter No 20-پارہ نمبر    ‹           The Story-28 سورت القصص ›Ayah No-79 ایت نمبر
| فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ |
| آسان اُردو | پھر وہ (قارون) اپنی شان و شوکت میں اپنی قوم کے سامنے نکلا. کہا اُن لوگوں نے جو دنیاوی زندگی چاہتے تھے: اے کاش! ہمارے لیے بھی ہوتا جیسے کہ جو قارون کو دیا گیا ہے! بے شک! وہ ایک عظیم قسمت والا نواب ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | پھر (ایک دن) وہ اپنی قوم کے سامنے آن بان کے ساتھ نکلا۔ جو لوگ دنیوی زندگی کے طلب گار تھے، وہ کہنے لگے : اے کاش ! ہمارے پاس بھی وہ چیزیں ہوتیں جو قارون کو عطا کی گئی ہیں۔ یقینا وہ بڑے نصیبوں والا ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پُورے ٹھاٹھ میں نکلا جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے "کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یہ تو بڑا نصیبے والا ہے" |
| احمد رضا خان | تو اپنی قومی پر نکلا اپنی آرائش میں بولے وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بیشک اس کا بڑا نصیب ہے، |
| احمد علی | اپنی قوم کے سامنے اپنے ٹھاٹھ سے نکلا جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے اے کاش ہمارے لیے بھی ویسا ہوتا جیسا کہ قارون کو دیا گیا ہے بے شک وہ بڑے نصیب والا ہے |
| فتح جالندھری | تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے |
| طاہر القادری | پھر وہ اپنی قوم کے سامنے (پوری) زینت و آرائش (کی حالت) میں نکلا۔ (اس کی ظاہری شان و شوکت کو دیکھ کر) وہ لوگ بول اٹھے جو دنیوی زندگی کے خواہش مند تھے: کاش! ہمارے لئے (بھی) ایسا (مال و متاع) ہوتا جیسا قارون کو دیا گیا ہے، بیشک وہ بڑے نصیب والا ہے، |
| علامہ جوادی | پھر قارون اپنی قوم کے سامنے زیب و زینت کے ساتھ برآمد ہوا تو جن لوگوں کے دل میں زندگانی دنیا کی خواہش تھی انہوںنے کہنا شروع کردیا کہ کاش ہمارے پاس بھی یہ ساز و سامان ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے یہ تو بڑے عظیم حصہ ّ کا مالک ہے |
| ایم جوناگڑھی | پس قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے مجمع میں نکلا، تو دنیاوی زندگی کے متوالے کہنے لگے کاش کہ ہمیں بھی کسی طرح وه مل جاتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ یہ تو بڑا ہی قسمت کا دھنی ہے |
| حسین نجفی | وہ (ایک دن) اپنی قوم کے سامنے اپنی زیب و زینت کے ساتھ نکلا تو جو لوگ دنیاوی زندگی کے طلبگار تھے وہ کہنے لگے کہ کاش ہمیں بھی وہ (ساز و سامان) ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ بیشک وہ بڑا نصیب والا ہے۔ |
| M.Daryabadi: | Then he went forth unto his people in his pomp. Those who sought the life of the world said: would that we had the like of that which hath been vouchsafed unto Qarun! Verily he is the owner of a very great fortune. |
| M.M.Pickthall: | Then went he forth before his people in his pomp. Those who were desirous of the life of the world said: Ah, would that we had the like of what hath been given unto Korah! Lo! he is lord of rare good fortune. |
| Saheeh International: | So he came out before his people in his adornment. Those who desired the worldly life said, "Oh, would that we had like what was given to Qarun. Indeed, he is one of great fortune." |
| Shakir: | So he went forth to his people in his finery. Those who desire this world's life said: O would that we had the like of what Qaroun is given; most surely he is possessed of mighty good fortune. |
| Yusuf Ali: | So he went forth among his people in the (pride of his wordly) glitter. Said those whose aim is the Life of this World: "Oh! that we had the like of what Qarun has got! for he is truly a lord of mighty good fortune!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
قارون کے بارے میں