اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 20-پارہ نمبر              The Story-28 سورت القصص Ayah No-55 ایت نمبر

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ
آسان اُردو اور جب وہ لغو (فضول باتوں کو) سنتے ہیں وہ اُس سے منہ پھیر لیتے ہیں. اور کہتے ہیں: ہمارے لیے ہمارے عمل ہیں اور تمہارے لیے تمہارے عمل ہیں.تم پر سلام! ہم تو جاہلوں کو نہیں چاہتے ہیں
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور جب وہ کوئی بےہودہ بات سنتے ہیں تو اسے ٹال جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ : ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں، اور تمہارے لیے تمہارے اعمال۔ ہم تمہیں سلام کرتے ہیں، ہم نادان لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔
ابو الاعلی مودودی اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہو گئے کہ "ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے"
احمد رضا خان اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے تغافل کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل، بس تم پر سلام ہم جاہلوں کے غرضی (چاہنے والے) نہیں
احمد علی اورجب بے ہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لے ہمارے اعمال تمہارے لیے تمہارے اعمال تم پر سلام ہو ہم بے سمجھوں کو نہیں چاہتے
فتح جالندھری اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں
طاہر القادری اورجب وہ کوئی بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، تم پر سلامتی ہو ہم جاہلوں (کے فکر و عمل) کو (اپنانا) نہیں چاہتے (گویا ان کی برائی کے عوض ہم اپنی اچھائی کیوں چھوڑیں)،
علامہ جوادی اور جب لغو بات سنتے ہیں تو کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں تم پر ہمارا سلام کہ ہم جاہلوں کی صحبت پسند نہیں کرتے ہیں
ایم جوناگڑھی اور جب بیہوده بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کناره کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم پر سلام ہو، ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے
حسین نجفی اور وہ جب کوئی فضول بات سنتے ہیں تو اس سے روگردانی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے! تم کو سلام! ہم جاہلوں کو پسند نہیں کرتے۔
=========================================
M.Daryabadi: And when they hear vain discourse they withdraw therefrom and say: unto US our works, and unto you your works; peace be unto you; we seek not the ignorant.
M.M.Pickthall: And when they hear vanity they withdraw from it and say: Unto us our works and unto you your works. Peace be unto you! We desire not the ignorant.
Saheeh International: And when they hear ill speech, they turn away from it and say, "For us are our deeds, and for you are your deeds. Peace will be upon you; we seek not the ignorant."
Shakir: And when they hear idle talk they turn aside from it and say: We shall have our deeds and you shall have your deeds; peace be on you, we do not desire the ignorant.
Yusuf Ali: And when they hear vain talk, they turn away therefrom and say: "To us our deeds, and to you yours; peace be to you: we seek not the ignorant."
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے