اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 20-پارہ نمبر              The Story-28 سورت القصص Ayah No-23 ایت نمبر

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ
آسان اُردو اور جب وہ مدین کے پانی پرپہنچا تو اُس نے اس پرلوگوں کے ایک گروہ کو پایا جو(جانوروں کو) پانی پلا رہے تھے اور اُس نے اُن (مردوں) سے الگ دو لڑکیوں کو پایا جو(اپنے ریوڑ) کو) روکے ہوئے تھیں. اُس نے کہا: تمہاراکیا معاملہ ہے؟ دونوں نے کہا: ہم پانی نہیں پلا سکتیں حتی کہ چرواہے چلے جائیں؛ اور ہمارا باپ ایک بوڑھا شخص ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ اس پر ایسے لوگوں کا ایک مجمع ہے جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں، اور دیکھا کہ ان سے پہلے دو عورتیں ہیں جو اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے ان سے کہا : تم کیا چاہتی ہو ؟ ان دونوں نے کہا : ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتیں جب تک سارے چرواہے پانی پلا کر نکل نہیں جاتے، اور ہمارے والد بہت بوڑھے آدمی ہیں۔
ابو الاعلی مودودی اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں موسیٰؑ نے اِن عورتوں سے پوچھا "تمہیں کیا پریشانی ہے؟" انہوں نے کہا "ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نکال کر نہ لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بوڑھے آدمی ہیں"
احمد رضا خان اور جب مدین کے پانی پر آیا وہاں لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلارہے ہیں، اور ان سے اس طرف دو عورتیں دیکھیں کہ اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں موسیٰ نے فرمایا تم دونوں کا کیا حال ہے وہ بولیں ہم پانی نہیں پلاتے جب تک سب چرواہے پلاکر پھیر نہ لے جائیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں
احمد علی اور جب مدین کے پانی پر پہنچا وہاں لوگوں کی ایک جماعت کو پانی پلاتے ہوئے پایا اور ان سے ورے دو عورتوں کو پایا جو اپنے جانور روکے ہوئے کھڑی تھیں کہا تمہارا کیا حال ہے بولیں جب تک چرواہے نہیں ہٹ جاتے ہم نہیں پلاتیں اور ہمارا باپ بوڑھابڑی عمر کا ہے
فتح جالندھری اور جب مدین کے پانی (کے مقام) پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہو رہے (اور اپنے چارپایوں کو) پانی پلا رہے ہیں اور ان کے ایک طرف دو عورتیں (اپنی بکریوں کو) روکے کھڑی ہیں۔ موسٰی نے (اُن سے) کہا تمہارا کیا کام ہے۔ وہ بولیں کہ جب تک چرواہے (اپنے چارپایوں کو) لے نہ جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتے اور ہمارے والد بڑی عمر کے بوڑھے ہیں
طاہر القادری اور جب وہ مَدْيَنَْ کے پانی (کے کنویں) پر پہنچے تو انہوں نے اس پر لوگوں کا ایک ہجوم پایا جو (اپنے جانوروں کو) پانی پلا رہے تھے اور ان سے الگ ایک جانب دو عورتیں دیکھیں جو (اپنی بکریوں کو) روکے ہوئے تھیں (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: تم دونوں اس حال میں کیوں (کھڑی) ہو؟ دونوں بولیں کہ ہم (اپنی بکریوں کو) پانی نہیں پلا سکتیں یہاں تک کہ چرواہے (اپنے مویشیوں کو) واپس لے جائیں، اور ہمارے والد عمر رسیدہ بزرگ ہیں،
علامہ جوادی اور جب مدین کے چشمہ پروارد ہوئے تو لوگوں کی ایک جماعت کو دیکھا جو جانوروں کو پانی پلارہی تھی اور ان سے الگ دو عورتیں تھیں جو جانوروں کو روکے کھڑی تھیں .موسٰی نے پوچھا کہ تم لوگوں کا کیا مسئلہ ہے ان دونوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے ہیں جب تک ساری قوم ہٹ نہ جائے اور ہمارے بابا ایک ضعیف العمر آدمی ہیں
ایم جوناگڑھی مدین کے پانی پر جب آپ پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے اور دو عورتیں الگ کھڑی اپنے (جانوروں کو) روکتی ہوئی دکھائی دیں، پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے، وه بولیں کہ جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں
حسین نجفی اور جب وہ مدین کے پانی (کنویں) پر پہنچا تو وہاں لوگوں کا ایک مجمع پایا جو (اپنے مویشیوں کو) پانی پلا رہا ہے اور ان لوگوں سے الگ دو عورتوں کو پایا کہ وہ (اپنے ریوڑ کو) روکے ہوئے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے کہا تمہارا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں نے کہا ہم اس وقت تک (اپنے جانوروں کو) پانی نہیں پلاتیں جب تک (یہ) چرواہے اپنے مویشیوں کو (پانی پلا کر) نہ لے جائیں اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔
=========================================
M.Daryabadi: And when he arrived at the water of Madyan, he found there a community of the people watering. And he found, apart from them, two women keeping back their flocks. He said: what aileth you twain! The twain said: we water not until the shepherds have driven away their flocks; and our father is a very old man.
M.M.Pickthall: And when he came unto the water of Midian he found there a whole tribe of men, watering. And he found apart from them two women keeping back (their flocks). He said: What aileth you? The two said: We cannot give (our flocks) to drink till the shepherds return from the water; and our father is a very old man.
Saheeh International: And when he came to the well of Madyan, he found there a crowd of people watering [their flocks], and he found aside from them two women driving back [their flocks]. He said, "What is your circumstance?" They said, "We do not water until the shepherds dispatch [their flocks]; and our father is an old man."
Shakir: And when he came to the water of Madyan, he found on it a group of men watering, and he found besides them two women keeping back (their flocks). He said: What is the matter with you? They said: We cannot water until the shepherds take away (their sheep) from the water, and our father is a very old man.
Yusuf Ali: And when he arrived at the watering (place) in Madyan, he found there a group of men watering (their flocks), and besides them he found two women who were keeping back (their flocks). He said: "What is the matter with you?" They said: "We cannot water (our flocks) until the shepherds take back (their flocks): And our father is a very old man."
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
حضرت موسی ؑ، فرعون کے قصے کے بارے میں
تاریخی ایت