Chapter No 20-پارہ نمبر    ‹           The Story-28 سورت القصص ›Ayah No-18 ایت نمبر
| فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ |
| آسان اُردو | پھر وہ صبح جاگاشہر میں ڈرا ہوا محتاط تھا، پھر جب وہ جس نے گزرے دن میں اُس (موسی ؑ) کی مدد مانگی تھی، پھر اُس (موسی ؑ) کی مدد مانگتا ہے. موسی ؑ نے اُس سے کہا: بے شک! تُو واقعی ہی ایک واضح سر پھراہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | پھر صبح کے وقت وہ شہر میں ڈرتے ڈرتے حالات کا جائزہ لے رہے تھے، اتنے میں دیکھا کہ جس شخص نے کل ان سے مدد مانگی تھی وہ پھر انہیں فریاد کے لیے پکار رہا ہے۔ موسیٰ نے اس سے کہا کہ : معلوم ہوا کہ تم تو کھلم کھلا شریر آدمی ہو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | دُوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکار رہا ہے موسیٰؑ نے کہا "تُو تو بڑا ہی بہکا ہُوا آدمی ہے" |
| احمد رضا خان | تو صبح کی، اس شہر میں ڈرتے ہوئے اس انتظار میں کہ کیا ہوتا ہے جبھی دیکھا کہ وہ جس نے کل ان سے مدد چاہی تھی فریاد کررہا ہے موسیٰ نے اس سے فرمایا بیشک تو کھلا گمراہ ہے |
| احمد علی | پھر شہر میں ڈرتا انتظار کرتا ہوا صبح کو گیا پھر وہی شخص جس نے کل اس سے مدد مانگی تھی اسے پکار رہا ہے موسیٰ نے اس سے کہا کہ بے شک تو صریح گمراہ ہے |
| فتح جالندھری | الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد مانگی تھی پھر اُن کو پکار رہا ہے۔ موسٰی نے اس سے کہا کہ تُو تو صریح گمراہ ہے |
| طاہر القادری | پس موسٰی (علیہ السلام) نے اس شہر میں ڈرتے ہوئے صبح کی اس انتظار میں (کہ اب کیا ہوگا؟) تو دفعتًہ وہی شخص جس نے آپ سے گزشتہ روز مدد طلب کی تھی آپ کو (دوبارہ) امداد کے لئے پکار رہا ہے تو موسٰی (علیہ السلام) نے اس سے کہا: بیشک تو صریح گمراہ ہے، |
| علامہ جوادی | پھر صبح کے وقت موسٰی شہر میں داخل ہوئے تو خوفزدہ اور حالات کی نگرانی کرتے ہوئے کہ اچانک دیکھا کہ جس نے کل مدد کے لئے پکارا تھا وہ پھر فریاد کررہا ہے موسٰی نے کہا کہ یقینا تو کھنَا ہوا گمراہ ہے |
| ایم جوناگڑھی | صبح ہی صبح ڈرتے اندیشہ کی حالت میں خبریں لینے کو شہر میں گئے، کہ اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی ان سے فریاد کر رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں تو تو صریح بے راه ہے |
| حسین نجفی | پھر موسیٰ نے شہر میں اس حال میں صبح کی کہ وہ خوف زدہ اور منتظر تھا (کہ کیا ہوتا ہے؟) کہ اچانک دیکھا کہ وہی شخص جس نے کل اس سے مدد طلب کی تھی (آج پھر چیخ کر( اس کو مدد کیلئے پکار رہا ہے موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو کھلا ہوا بد راہ ہے۔ |
| M.Daryabadi: | And in the morning he was in the city fearing and looking about, when lo! he who had asked his succour yesterday was crying out unto him. Musa said: verily thou art a seducer manifest. |
| M.M.Pickthall: | And morning found him in the city, fearing, vigilant, when behold! he who had appealed to him the day before cried out to him for help. Moses said unto him: Lo! thou art indeed a mere hothead. |
| Saheeh International: | And he became inside the city fearful and anticipating [exposure], when suddenly the one who sought his help the previous day cried out to him [once again]. Moses said to him, "Indeed, you are an evident, [persistent] deviator." |
| Shakir: | And he was in the city, fearing, awaiting, when lo! he who had asked his assistance the day before was crying out to him for aid. Musa said to him: You are most surely one erring manifestly. |
| Yusuf Ali: | So he saw the morning in the city, looking about, in a state of fear, when behold, the man who had, the day before, sought his help called aloud for his help (again). Moses said to him: "Thou art truly, it is clear, a quarrelsome fellow!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
حضرت موسی ؑ، فرعون کے قصے کے بارے میں
تاریخی ایت