اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 20-پارہ نمبر              The Story-28 سورت القصص Ayah No-15 ایت نمبر

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ
آسان اُردو اور وہ شہر میں اُس وقت پر داخل ہوا (کہ) اُس (شہر) کے رہنے والے غافل تھے پھر اُس نے اُس(شہر) میں دو لڑتے جھگڑتے مرد پائے،یہ(ایک) اُس کی ذات سے تھا، اوریہ (دوسرا)اُس کے دشمنوں سے تھا؛ پھروہ جو اُس (موسی ؑ) کی ذات کا تھا اُس نے اس (موسی ؑ) کی مدد مانگی اُس کے خلاف جو اُس کے دشمنوں سے تھا. پھرموسی ؑ نے اُس (دشمن بندے) کو زور دار مکا مارا پھراُس پر موت واقع ہو گی ا. اُس (موسی ؑ) نے کہا: یہ شیطانی کام ہے. بے شک! وہ (شیطان) دشمن ہے واضح گمراہ کرنے والا
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور (ایک دن) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوئے جب اس کے باشندے غفلت میں تھے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں دو آمی لڑ رہے ہیں، ایک تو ان کی اپنی برادری کا تھا، اور دوسرا ان کی دشمن قوم کا۔ اب جو شخص ان کی برادری کا تھا، اس نے انہیں ان کی دشمن قوم کے آدمی کے مقابلے میں مدد کے لیے پکارا، اس پر موسیٰ نے اس کو ایک مکا مارا جس نے اس کا کام تمام کردیا۔ (پھر) انہوں نے (پچھتا کر) کہا کہ : یہ تو کوئی شیطان کی کاروائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک کھلا دشمن ہے جو غلط راستے پر ڈال دیتا ہے۔
ابو الاعلی مودودی (ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت میں داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا موسیٰؑ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا (یہ حرکت سرزد ہوتے ہی) موسیٰؑ نے کہا "یہ شیطان کی کارفرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے"
احمد رضا خان اور اس شہر میں داخل ہوا جس وقت شہر والے دوپہر کے خواب میں بے خبر تھے تو اس میں دو مرد لڑتے پائے، ایک موسیٰ، کے گروہ سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں سے تو وہ جو اس کے گروہ سے تھا اس نے موسیٰ سے مدد مانگی، اس پر جو اس کے دشمنوں سے تھا، تو موسیٰ نے اس کے گھونسا مارا تو اس کا کام تما م کردیا کہا یہ کام شیطان کی طرف سے ہوا بیشک وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا،
احمد علی اور شہر میں لوگوں کی بے خبری کے وقت داخل ہوا پھر وہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک اس کی جماعت کا تھااوریہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تھا پھر اس نے جو اس کی جماعت کا تھا اپنے دشمن پر اس سے مدد چاہی تب موسیٰ نے اس پر مکا مارا پس اس کا کام تمام کر دیا کہا یہ تو شیطانی حرکت ہے بے شک وہ کھلا دشمن اور گمراہ کرنے والا ہے
فتح جالندھری اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بےخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے تھے ایک تو موسٰی کی قوم کا ہے اور دوسرا اُن کے دشمنوں میں سے تو جو شخص اُن کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسٰی کے دشمنوں میں سے تھا مدد طلب کی تو اُنہوں نے اس کو مکا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے
طاہر القادری اور موسٰی (علیہ السلام) شہرِ (مصر) میں داخل ہوئے اس حال میں کہ شہر کے باشندے (نیند میں) غافل پڑے تھے، تو انہوں نے اس میں دو مَردوں کو باہم لڑتے ہوئے پایا یہ (ایک) تو ان کے (اپنے) گروہ (بنی اسرائیل) میں سے تھا اور یہ (دوسرا) ان کے دشمنوں (قومِ فرعون) میں سے تھا، پس اس شخص نے جو انہی کے گروہ میں سے تھا آپ سے اس شخص کے خلاف مدد طلب کی جو آپ کے دشمنوں میں سے تھا پس موسٰی (علیہ السلام) نے اسے مکّا مارا تو اس کا کام تمام کردیا، (پھر) فرمانے لگے: یہ شیطان کا کام ہے (جو مجھ سے سرزَد ہوا ہے)، بیشک وہ صریح بہکانے والا دشمن ہے،
علامہ جوادی اور موسٰی شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غفلت کی نیند میں تھے تو انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا اور ایک دشمنوں میں سے تو جو ان کے شیعوں میں سے تھا اس نے دشمن کے ظلم کی فریاد کی تو موسٰی نے اسے ایک گھونسہ مار کر اس کی زندگی کا فیصلہ کردیا اور کہا کہ یہ یقینا شیطان کے عمل سے تھا اور یقینا شیطان دشمن اور کھنَا ہوا گمراہ کرنے والا ہے
ایم جوناگڑھی اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا، یہ ایک تو اس کے رفیقوں میں سے تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی، جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو مکا مارا جس سے وه مر گیا موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے، یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے واﻻ ہے
حسین نجفی وہ (جوان) ایسے وقت شہر میں داخل ہوا جب کہ اس شہر کے باشندے بے خبر تھے۔ تو اس نے وہاں دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے پایا۔ یہ ایک ان کے گروہ میں سے تھا۔ اور یہ دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا پس جو اس کے گروہ میں سے تھا اس نے (موسیٰ) کو اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا مدد کیلئے پکارا تو موسیٰ نے اسے ایک مکا مارا۔ بس اس کا کام تمام کر دیا اور کہا یہ (ان کی لڑائی) شیطان کی کاروائی تھی۔ بےشک وہ کھلا ہوا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: And he entered the City at a time of unawareness of the inhabitants thereof, and he found therein two men fighting, one being of his own party, and the other of his enemies. And he who was of his party, called him for help against him who was of his enemies. So Musa truck him with his fist, and put an end of him. He said: this is of the work of the satan, verily he is an enemy, a misleader manifest.
M.M.Pickthall: And he entered the city at a time of carelessness of its folk, and he found therein two men fighting, one of his own caste, and the other of his enemies; and he who was of his caste asked him for help against him who was of his enemies. So Moses struck him with his fist and killed him. He said: This is of the devil's doing. Lo! he is an enemy, a mere misleader.
Saheeh International: And he entered the city at a time of inattention by its people and found therein two men fighting: one from his faction and one from among his enemy. And the one from his faction called for help to him against the one from his enemy, so Moses struck him and [unintentionally] killed him. [Moses] said, "This is from the work of Satan. Indeed, he is a manifest, misleading enemy."
Shakir: And he went into the city at a time of unvigilance on the part of its people, so he found therein two men fighting, one being of his party and the other of his foes, and he who was of his party cried out to him for help against him who was of his enemies, so Musa struck him with his fist and killed him. He said: This is on account of the Shaitan's doing; surely he is an enemy, openly leading astray.
Yusuf Ali: And he entered the city at a time when its people were not watching: and he found there two men fighting,- one of his own religion, and the other, of his foes. Now the man of his own religion appealed to him against his foe, and Moses struck him with his fist and made an end of him. He said: "This is a work of Evil (Satan): for he is an enemy that manifestly misleads!"
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
حضرت موسی ؑ، فرعون کے قصے کے بارے میں
تاریخی ایت