Chapter No 19-پارہ نمبر    ‹           The Ant-27 سورت النمل ›Ayah No-40 ایت نمبر
| قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ |
| آسان اُردو | کہا اُس نے جس کے پاس کتاب سے علم تھا: میں اس (تخت) کو آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ کی طرف آپ کی آنکھ مڑے (یعنی پلک جھپکنے میں).پھر جب اس نے اِس (تخت) کو اپنے پاس رکھاہوا دیکھا تو اُس نے کہا: یہ (ایسا ہونا) میرے رب کے فضل میں سے ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیامیں شکر کرتا ہوں یا ناشکری. اور جو کوئی بھی شکر کرتا ہے پس اُس کا شکر صرف اُسی کی جان کے لیے ہے: اور جو کوئی کفر (ناشکری) کرتاہے (تو اپنا ہی نقصان کرتا ہے).پھر بے شک! میرا رب تو بے محتاج عزت والا ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | جس کے پاس کتاب کا علم تھا، وہ بول اٹھا : میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی اسے آپ کے پاس لے آتا ہوں۔ چنانچہ جب سلیمان نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا : یہ میرے پروردگار کا فضل ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور اگر کوئی ناشکری کرے تو میرا پروردگار بےنیاز ہے، کریم ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بولا "میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں" جونہی کہ سلیمانؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، وہ پکار اٹھا "یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافر نعمت بن جاتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے" |
| احمد رضا خان | اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے پھر جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہ یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بے پرواہ ہے سب خوبیوں والا، |
| احمد علی | اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا میں اسے تیری آنکھ جھپکنے سے پہلے لا دیتا ہوں پھر جب اسے اپنے روبرو رکھا دیکھا تو کہنے لگا یہ میرے رب کا ایک فضل ہے تاکہ میری آزمائش کرے کیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شخص شکر کرتا ہے اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے اورجو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بھی بے پرواہ عزت والا ہے |
| فتح جالندھری | ایک شخص جس کو کتاب الہیٰ کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے |
| طاہر القادری | (پھر) ایک ایسے شخص نے عرض کیا جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا کچھ علم تھا کہ میں اسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ کی نگاہ آپ کی طرف پلٹے (یعنی پلک جھپکنے سے بھی پہلے)، پھر جب (سلیمان علیہ السلام نے) اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا (تو) کہا: یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر گزاری کرتا ہوں یا نا شکری، اور جس نے (اللہ کا) شکر ادا کیا سو وہ محض اپنی ہی ذات کے فائدہ کے لئے شکر مندی کرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو بیشک میرا رب بے نیاز، کرم فرمانے والا ہے، |
| علامہ جوادی | اور ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہّ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے وہ میرا امتحان لینا چاہتا ہے کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں اور جو شکریہ ادا کرے گا وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے کرے گا اور جو کفران هنعمت کرے گا اس کی طرف سے میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے |
| ایم جوناگڑھی | جس کے پاس کتاب کا علم تھا وه بول اٹھا کہ آپ پلک جھپکائیں اس سے بھی پہلے میں اسے آپ کے پاس پہنچا سکتا ہوں۔ جب آپ نے اسے اپنے پاس موجود پایا تو فرمانے لگے یہی میرے رب کا فضل ہے، تاکہ وه مجھے آزمائے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری، شکر گزار اپنے ہی نفع کے لیے شکر گزاری کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا پروردگار (بے پروا اور بزرگ) غنی اور کریم ہے |
| حسین نجفی | اور اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ جھپکے پھر جب سلیمان نے اسے اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے فائدہ کیلئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو وہ (اپنا نقصان کرتا ہے) میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے۔ |
| M.Daryabadi: | The one who had some knowledge of the Book said: I shall bring it unto thee ere thy eye twinkleth. Then when he saw it placed before him, he said: this is of the grace of my Lord that he may prove me whether I give thanks or am ungrateful. Whosoever giveth thanks he only giveth thanks for his own soul; and whosoever is ungrateful then verily my Lord is Self-sufficient, Munificent. |
| M.M.Pickthall: | One with whom was knowledge of the Scripture said: I will bring it thee before thy gaze returneth unto thee. And when he saw it set in his presence, (Solomon) said: This is of the bounty of my Lord, that He may try me whether I give thanks or am ungrateful. Whosoever giveth thanks he only giveth thanks for (the good of) his own soul; and whosoever is ungrateful (is ungrateful only to his own soul's hurt). For lo! my Lord is Absolute in independence, Bountiful. |
| Saheeh International: | Said one who had knowledge from the Scripture, "I will bring it to you before your glance returns to you." And when [Solomon] saw it placed before him, he said, "This is from the favor of my Lord to test me whether I will be grateful or ungrateful. And whoever is grateful - his gratitude is only for [the benefit of] himself. And whoever is ungrateful - then indeed, my Lord is Free of need and Generous." |
| Shakir: | One who had the knowledge of the Book said: I will bring it to you in the twinkling of an eye. Then when he saw it settled beside him, he said: This is of the grace of my Lord that He may try me whether I am grateful or ungrateful; and whoever is grateful, he is grateful only for his own soul, and whoever is ungrateful, then surely my Lord is Self-sufficient, Honored. |
| Yusuf Ali: | Said one who had knowledge of the Book: "I will bring it to thee within the twinkling of an eye!" Then when (Solomon) saw it placed firmly before him, he said: "This is by the Grace of my Lord!- to test me whether I am grateful or ungrateful! and if any is grateful, truly his gratitude is (a gain) for his own soul; but if any is ungrateful, truly my Lord is Free of all Needs, Supreme in Honour!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت
حضرت سلیمان ؑ اور ملکہ شیبا کے بارے میں