Chapter No 19-پارہ نمبر    ‹           The Ant-27 سورت النمل ›Ayah No-29 ایت نمبر
| قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ |
| آسان اُردو | اُس(ملکہ سبا)نے (جب وہ خط پایا تو) کہا: اے سردارو! بے شک! میری طرف ایک باعزت خط ڈالا گیا ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | (چنانچہ ہدہد نے ایسا ہی کیا اور) ملکہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا : قوم کے سردارو ! میرے سامنے ایک باوقار خط ڈالا گیا ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | ملکہ بولی "اے اہلِ دربار، میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے |
| احمد رضا خان | وہ عورت بولی اے سردارو! بیشک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا |
| احمد علی | کہنے لگی اے دربار والو میرے پاس ایک معزز خط ڈالا گیا ہے |
| فتح جالندھری | ملکہ نے کہا کہ دربار والو! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے |
| طاہر القادری | (ملکہ نے) کہا: اے سردارو! میری طرف ایک نامۂ بزرگ ڈالا گیا ہے، |
| علامہ جوادی | اس عورت نے کہا کہ میرے زعمائ سلطنت میری طرف ایک بڑا محترم خط بھیجا گیا ہے |
| ایم جوناگڑھی | وه کہنے لگی اے سردارو! میری طرف ایک باوقعت خط ڈاﻻ گیا ہے |
| حسین نجفی | اس (ملکہ) نے کہا اے (دربار کے) سردارو! مجھے ایک معزز خط پہنچایا گیا ہے۔ |
| M.Daryabadi: | She said: O chiefs! verily there hath been cast unto me an honourable epistle. |
| M.M.Pickthall: | (The Queen of Sheba) said (when she received the letter): O chieftains! Lo! there hath been thrown unto me a noble letter. |
| Saheeh International: | She said, "O eminent ones, indeed, to me has been delivered a noble letter. |
| Shakir: | She said: O chief! surely an honorable letter has been delivered to me |
| Yusuf Ali: | (The queen) said: "Ye chiefs! here is delivered to me - a letter worthy of respect. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
تاریخی ایت
حضرت سلیمان ؑ اور ملکہ شیبا کے بارے میں