اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 19-پارہ نمبر              The Ant-27 سورت النمل Ayah No-14 ایت نمبر

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ
آسان اُردو اور اُنہوں نے اُن(نشانیوں) سے، ظلم(نافرمانی) اوربغاوت سے انکار کیااور اُن کے دلوں نے اُن (نشانیوں) کو تسلیم بھی کیا. پھر دیکھ لیں کہ مفسدین (گناہگاروں) کا انجام کیسے ہوا
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور اگرچہ ان کے دلوں کو ان (کی سچائی) کا یقین ہوچکا تھا، مگر انہوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔ اب دیکھ لو ان فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟ ۔
ابو الاعلی مودودی انہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہو چکے تھے اب دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا
احمد رضا خان اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا ظلم اور تکبر سے تو دیکھو کیسا انجام ہوا فسادیوں کا
احمد علی اور انہوں نے انکا ظلم اور تکبر سے انکار کرد یا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے پھر دیکھ مفسدوں کا انجام کیسا ہوا
فتح جالندھری اور بےانصافی اور غرور سے ان سے انکار کیا لیکن ان کے دل ان کو مان چکے تھے۔ سو دیکھ لو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
طاہر القادری اور انہوں نے ظلم اور تکبّر کے طور پر ان کا سراسر انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل ان (نشانیوں کے حق ہونے) کا یقین کر چکے تھے۔ پس آپ دیکھئے کہ فساد بپا کرنے والوں کا کیسا (بُرا) انجام ہوا،
علامہ جوادی ان لوگوں نے ظلم اور غرور کے جذبہ کی بنائ پر انکار کردیا تھا ورنہ ان کے دل کو بالکل یقین تھا پھر دیکھو کہ ایسے مفسدین کا انجام کیا ہوتا ہے
ایم جوناگڑھی انہوں نے انکار کردیا حاﻻنکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے صرف ﻇلم اور تکبر کی بنا پر۔ پس دیکھ لیجئے کہ ان فتنہ پرداز لوگوں کا انجام کیسا کچھ ہوا
حسین نجفی اور ان لوگوں نے ظلم و تکبر کی راہ سے ان (معجزات) کا انکار کر دیا۔ حالانکہ ان کے نفوس (دلوں) کو ان کا یقین تھا۔ اب دیکھو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا؟
=========================================
M.Daryabadi: And they gainsaid them, out of spite and arrogance, although their souls were convinced thereof. So behold! what hath been the end of the corruptors.
M.M.Pickthall: And they denied them, though their souls acknowledged them, for spite and arrogance. Then see the nature of the consequence for the wrong-doers!
Saheeh International: And they rejected them, while their [inner] selves were convinced thereof, out of injustice and haughtiness. So see how was the end of the corrupters.
Shakir: And they denied them unjustly and proudly while their soul had been convinced of them; consider, then how was the end of the mischief-makers.
Yusuf Ali: And they rejected those Signs in iniquity and arrogance, though their souls were convinced thereof: so see what was the end of those who acted corruptly!
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
علمی ایت
حضرت موسی ؑ کے بارے میں