اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 18-پارہ نمبر                The Light-24 سورت النور  Ayah No-54 ایت نمبر

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
آسان اُردو (آپﷺ) کہیں: اللہ کی اطاعت(فرمانبرداری) کرو اور اُس کے رسولﷺ کی اطاعت(فرمانبرداری) کرو. پھر اگر تم (لوگ)پھر جاتے ہو پھر اُس (رسولﷺ) پر تو(ذمہ داری) ہے جو اُس پرڈالی گی ہے،اور تم پر(ذمہ داری) ہے جو تم پر ڈالی گی ہے.اور اگر تم اُس (رسولﷺ) کی اطاعت کرو گے تو تم سیدھے چلو گے. اور رسولﷺ پر تو کوئی (ذمہ داری) نہیں ہے ماسوائے (پیغام) واضح(طور پر) پہنچا دینے کے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی (ان سے) کہو کہ : اللہ کا حکم مانو اور رسول کے فرمانبردار بنو، پھر بھی اگر تم نے منہ پھیرے رکھا تو رسول پر تو اتنا ہی بوجھ ہے جس کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی ہے، اور جو بوجھ تم پر ڈالا گیا ہے، اس کے ذمہ داری تم خود ہو۔ اگر تم ان کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاجاؤ گے، اور رسول کا فرض اس سے زیادہ نہیں ہے کہ وہ صاف صاف بات پہنچا دیں۔
ابو الاعلی مودودی کہو، "اللہ کے مطیع بنو اور رسولؐ کے تابع فرمان بن کر رہو لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ رسولؐ پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اُس کا ذمہ دار وہ ہے اور تم پر جس فرض کا بار ڈالا گیا ہے اُس کے ذمہ دار تم ہو اُس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پاؤ گے ورنہ رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے"
احمد رضا خان تم فرماؤ حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا پھر اگر تم منہ پھیرو تو رسول کے ذمہ وہی ہے جس اس پر لازم کیا گیا اور تم پر وہ ہے جس کا بوجھ تم پر رکھا گیا اور اگر رسول کی فرمانبرداری کرو گے راہ پاؤ گے، اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا
احمد علی کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے
فتح جالندھری کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا رستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے
طاہر القادری فرما دیجئے: تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو، پھر اگر تم نے (اطاعت) سے رُوگردانی کی تو (جان لو) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ وہی کچھ ہے جو ان پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا ہے، اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے، اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (احکام کو) صریحاً پہنچا دینے کے سوا (کچھ لازم) نہیں ہے،
علامہ جوادی آپ کہہ دیجئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو پھر اگر انحراف کرو گے تو رسول پر وہ ذمہ داری ہے جو اس کے ذمہ رکھی گئی ہے اور تم پر وہ مسئولیت ہے جو تمہارے ذمہ رکھی گئی ہے اور اگر تم اطاعت کرو گے تو ہدایت پاجاؤ گے اور رسول کے ذمہ واضح تبلیغ کے سوا اور کچھ نہیں ہے
ایم جوناگڑھی کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، رسول اللہ کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر ﻻزم کردیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ سنو رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے
حسین نجفی آپ کہہ دیجئے! کہ تم اللہ کی اطاعت کرو۔ اور رسول کی اطاعت کرو اور اگر تم روگردانی کروگے تو اس (رسول) کے ذمہ وہی ہے جو بار اس پر ڈالا گیا ہے اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو بار تم پر ڈالا گیا ہے۔ اور تم اگر اس کی اطاعت کروگے تو خود ہی ہدایت پاؤگے۔ ورنہ رسول کے ذمہ واضح طور پر پیغام پہنچانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: Say thou: obey Allah and obey the apostle; then if ye turn away, upon him is only that wherewith he hath been laid upon, and upon you is that wherewith ye have been laid upon; if ye obey him, ye will be guided; and naught is upon the apostle except the preaching plain.
M.M.Pickthall: Say: Obey Allah and obey the messenger. But if ye turn away, then (it is) for him (to do) only that wherewith he hath been charged, and for you (to do) only that wherewith ye have been charged. If ye obey him, ye will go aright. But the messenger hath no other charge than to convey (the message) plainly.
Saheeh International: Say, "Obey Allah and obey the Messenger; but if you turn away - then upon him is only that [duty] with which he has been charged, and upon you is that with which you have been charged. And if you obey him, you will be [rightly] guided. And there is not upon the Messenger except the [responsibility for] clear notification."
Shakir: Say: Obey Allah and obey the Apostle; but if you turn back, then on him rests that which is imposed on him and on you rests that which is imposed on you; and if you obey him, you are on the right way; and nothing rests on the Apostle but clear delivering (of the message).
Yusuf Ali: Say: "Obey Allah, and obey the Messenger: but if ye turn away, he is only responsible for the duty placed on him and ye for that placed on you. If ye obey him, ye shall be on right guidance. The Messenger's duty is only to preach the clear (Message).
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
منافقین کو کہا جا رہا ہے