Chapter No 18-پارہ نمبر   ‹             The Light-24 سورت النور  ›Ayah No-39 ایت نمبر
| وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ |
| آسان اُردو | اورجو لوگ کفر کرتے ہیں اُن کے اعمال جیسے ایک صحرا میں ایک سراب ہوں. پیاسا اس (سراب) کو پانی خیال کرے حتی کہ جب وہ اس (سراب)کے پاس آئے تو اُس کو کوئی چیز نہ ملے، اور اس(سراب) کے پاس اللہ کو پائے پھر وہ اس کو اُس کا حساب پورا کر دے؛ اور اللہ حساب کا تیز ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور (دوسری طرف) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹیل صحرا میں ایک سراب ہو جسے پیاسا آدمی پانی سمجھ بیٹھتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں تھا اور اس کے پاس اللہ کو پاتا ہے، چنانچہ اللہ اس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے۔ اور اللہ بہت جلدی حساب لے لیتا ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | (اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اُس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا، بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا، جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا، اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی |
| احمد رضا خان | اور جو کافر ہوئے ان کے کام ایسے ہیں جیسے دھوپ میں چمکتا ریتا کسی جنگل میں کہ پیاسا اسے پانی سمجھے، یہاں تک جب اس کے پاس آیا تو اسے کچھ نہ پایا اور اللہ کو اپنے قریب پایا تو اس نے اس کا حساب پورا بھردیا، اور اللہ جلد حساب کرلیتا ہے |
| احمد علی | اور جو کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے جنگل میں چمکتی ہوئی ریت ہو جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے اسے کچھ بھی نہیں پاتا اور الله ہی کو اپنے پاس پاتا ہے پھر الله نے اس کا حساب پورا کر دیا اور الله جلد حساب لینے والا ہے |
| فتح جالندھری | اور جن لوگوں نے کفر اختیار کرلیا ان کے اعمال اس ریت کے مانند ہیں جو چٹیل میدان میں ہو اور پیاسا اسے دیکھ کر پانی تصور کرے اور جب اس کے قریب پہنچے تو کچھ نہ پائے بلکہ اس خدا کو پائے جو اس کا پورا پورا حساب کردے کہ اللہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے |
| طاہر القادری | اور کافروں کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی مانند ہیں جس کو پیاسا پانی سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ (بھی) نہیں پاتا (اسی طرح اس نے آخرت میں) اللہ کو اپنے پاس پایا مگر اللہ نے اس کا پورا حساب (دنیا میں ہی) چکا دیا تھا، اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے، |
| علامہ جوادی | اور جن لوگوں نے کفر اختیار کرلیا ان کے اعمال اس ریت کے مانند ہیں جو چٹیل میدان میں ہو اور پیاسا اسے دیکھ کر پانی تصور کرے اور جب اس کے قریب پہنچے تو کچھ نہ پائے بلکہ اس خدا کو پائے جو اس کا پورا پورا حساب کردے کہ اللہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے |
| ایم جوناگڑھی | اور کافروں کے اعمال مثل اس چمکتی ہوئی ریت کے ہیں جو چٹیل میدان میں ہو جسے پیاسا شخص دور سے پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا، ہاں اللہ کو اپنے پاس پاتا ہے جو اس کا حساب پورا پورا چکا دیتا ہے۔ اللہ بہت جلد حساب کردینے واﻻ ہے |
| حسین نجفی | اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے اعمال سراب کی مانند ہیں جو ایک چٹیل میدان میں ہو۔ جسے آدمی پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس جاتا ہے تو اسے کچھ نہیں پاتا بلکہ وہاں اللہ کو موجود پاتا ہے۔ جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا۔ اور اللہ بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ |
| M.Daryabadi: | And those who disbelieve--their works are like a mirage in a desert which the thirsty deemeth to be water, until when he cometh thereto he findeth not aught, and findeth Allahs with himself, and He payeth him his account in full; and Allah is swift at reckoning. |
| M.M.Pickthall: | As for those who disbelieve, their deeds are as a mirage in a desert. The thirsty one supposeth it to be water till he cometh unto it and findeth it naught, and findeth, in the place thereof, Allah Who payeth him his due; and Allah is swift at reckoning. |
| Saheeh International: | But those who disbelieved - their deeds are like a mirage in a lowland which a thirsty one thinks is water until, when he comes to it, he finds it is nothing but finds Allah before Him, and He will pay him in full his due; and Allah is swift in account. |
| Shakir: | And (as for) those who disbelieve, their deeds are like the mirage in a desert, which the thirsty man deems to be water; until when he comes to it he finds it to be naught, and there he finds Allah, so He pays back to him his reckoning in full; and Allah is quick in reckoning; |
| Yusuf Ali: | But the Unbelievers,- their deeds are like a mirage in sandy deserts, which the man parched with thirst mistakes for water; until when he comes up to it, he finds it to be nothing: But he finds Allah (ever) with him, and Allah will pay him his account: and Allah is swift in taking account. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
یعنی جو لوگ اللہ کا ذکر کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے سے کفر کرتے ہیں جیسا کہ ایت نمبر 37 میں ہے