اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 18-پارہ نمبر                The Light-24 سورت النور  Ayah No-15 ایت نمبر

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ
آسان اُردو جب تم نے اس (الزام) کو اپنی زبانوں سے خوش آمدید کہا، اور اپنے منہوں سے بولا جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں تھا،اور(پھر)تم نے اُس (یعنی ایسا کرنے) کوایک معمولی بات جانااور وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی (خطا) ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی جب تم اپنی زبانوں سے اس بات کو ایک دوسرے سے نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا، اور تم اس بات کو معمولی سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی سنگین بات تھی۔
ابو الاعلی مودودی (ذرا غور تو کرو، اُس وقت تم کیسی سخت غلطی کر رہے تھے) جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی
احمد رضا خان جب تم ایسی بات اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں اور اسے سہل سمجھتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے
احمد علی جب تم اسے اپنی زبانوں سے نکالنے لگے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہنی شروع کر دی جس کا تمہیں علم بھی نہ تھا اور تم نے اسے ہلکی بات سمجھ لیا تھا حالانکہ وہ الله کے نزدیک بڑی بات ہے
فتح جالندھری جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی
طاہر القادری جب تم اس (بات) کو (ایک دوسرے سے سن کر) اپنی زبانوں پر لاتے رہے اور اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے رہے جس کا (خود) تمہیں کوئی علم ہی نہ تھا اور اس (چرچے) کو معمولی بات خیال کر رہے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے حضور بہت بڑی (جسارت ہو رہی) تھی،
علامہ جوادی جب تم اپنی زبان سے چرچا کررہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات نکال رہے تھے جس کا تمہیں علم بھی نہیں تھا اور تم اسے بہت معمولی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی
ایم جوناگڑھی جب کہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منھ سے وه بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق خبر نہ تھی، گو تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وه بہت بڑی بات تھی
حسین نجفی جب تم لوگ اس (بہتان) کو ایک دوسرے کی زبان سے نقل کر رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا خود تمہیں علم نہیں تھا۔ اور تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی۔
=========================================
M.Daryabadi: When ye were publishing it with your tongues and saying that with your mouths of which ye had no knowledge. Ye deemed it light, and it was with Allah mighty!
M.M.Pickthall: When ye welcomed it with your tongues, and uttered with your mouths that whereof ye had no knowledge, ye counted it a trifle. In the sight of Allah it is very great.
Saheeh International: When you received it with your tongues and said with your mouths that of which you had no knowledge and thought it was insignificant while it was, in the sight of Allah, tremendous.
Shakir: When you received it with your tongues and spoke with your mouths what you had no knowledge of, and you deemed it an easy matter while with Allah it was grievous.
Yusuf Ali: Behold, ye received it on your tongues, and said out of your mouths things of which ye had no knowledge; and ye thought it to be a light matter, while it was most serious in the sight of Allah.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے
جس الزام کے بارے میں کچھ علم بھی نہیں اس میں اپنے اپن کو مصرف رکھنا اور باتیں کرتے ہیں اپنے زبانوں اور منہ سے اور پھر خیال کرنا کے یہ معمولی بات ہے
اللہ کے نزدیک یہ بہھت بڑی چیز ہے کسی انسان کی عزت نفس کو محفوظ رکھنا