اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 18-پارہ نمبر                The Believers-23 سورت المومنون  Ayah No-24 ایت نمبر

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ
آسان اُردو پھر اُس کی قوم میں سے سرداروں نے کہا جو کفر کرتے تھے: نہیں ہے یہ (نوحؐ کچھ بھی) ماسوائے کہ تمہاری طرح کا ایک عام انسان (بشر) توہے وہ چاہتا ہے کہ تم پر برتر(بڑا) ہو. اوراگر اللہ چاہتا تو وہ واقعی فرشتے نازل کر دیتا. ہم نے اس کے بارے میں اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنا
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اس پر ان کی قوم کے کافر سرداروں نے (ایک دوسرے سے) کہا : اس شخص کی اس کے سوا کوئی حقیقت نہیں کہ یہ تمہی جیسا ایک انسان ہے جو تم پر اپنی برتری جمانا چاہتا ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو فرشتے نازل کردیتا۔ یہ بات تو ہم نے اپنے پچھلے باپ دادوں میں کبھی نہیں سنی۔
ابو الاعلی مودودی اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا وہ کہنے لگے کہ "یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا اِس کی غرض یہ ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے اللہ کو اگر بھیجنا ہوتا تو فرشتے بھیجتا یہ بات تو ہم نے کبھی اپنے باپ دادا کے وقتوں میں سنی ہی نہیں (کہ بشر رسول بن کر آئے)
احمد رضا خان تو اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کیا بولے یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی چاہتا ہے کہ تمہارا بڑا بنے اور اللہ چاہتا تو فرشتے اتارتا ہم نے تو یہ اگلے باپ داداؤں میں نہ سنا
احمد علی سواس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ یہ بس تم ہی جیسا آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر الله چاہتا تو فرشتے بھیج دیتا ہم نے اپنے پہلے باب دادا سے یہ بات کبھی نہیں سنی
فتح جالندھری تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے۔ تم پر بڑائی حاصل کرنی چاہتا ہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا۔ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو یہ بات کبھی سنی نہیں تھی
طاہر القادری تو ان کی قوم کے سردار (اور وڈیرے) جو کفر کر رہے تھے کہنے لگے: یہ شخص محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے (اس کے سوا کچھ نہیں)، یہ تم پر (اپنی) فضیلت و برتری قائم کرنا چاہتا ہے، اور اگر اللہ (ہدایت کے لئے کسی پیغمبر کو بھیجنا) چاہتا تو فرشتوں کو اتار دیتا، ہم نے تو یہ بات (کہ ہمارے جیسا ہی ایک شخص ہمارا رسول بنا دیا جائے) اپنے اگلے آباء و اجداد میں (کبھی) نہیں سنی،
علامہ جوادی ان کی قوم کے کافر رؤسائ نے کہا کہ یہ نوح تمہارے ہی جیسے انسان ہیں جو تم پر برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ خدا چاہتا تو ملائکہ کو بھی نازل کرسکتا تھا. یہ تو ہم نے اپنے باپ دادا سے کبھی نہیں سنا ہے
ایم جوناگڑھی اس کی قوم کے کافر سرداروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، یہ تم پر فضیلت اور بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر اللہ ہی کو منظور ہوتا تو کسی فرشتے کو اتارتا، ہم نے تو اسے اپنے اگلے باپ دادوں کے زمانے میں سنا ہی نہیں
حسین نجفی تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ یہ (نوح(ع)) نہیں ہے مگر تم ہی جیسا ایک بشر (آدمی) ہے جو تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر خدا (یہی) چاہتا تو وہ فرشتوں کو بھیجتا۔ ہم نے تو یہ بات اپنے پہلے باپ داداؤں سے نہین سنی۔
=========================================
M.Daryabadi: Then said the chiefs of those who disbelieved among his people: this is no other than a human being like unto you, he seeketh to make himself superior unto; and if God had willed, He would save sent down angels; we have not heard of this among our fathers ancient.
M.M.Pickthall: But the chieftains of his folk, who disbelieved, said: This is only a mortal like you who would make himself superior to you. Had Allah willed, He surely could have sent down angels. We heard not of this in the case of our fathers of old.
Saheeh International: But the eminent among those who disbelieved from his people said, "This is not but a man like yourselves who wishes to take precedence over you; and if Allah had willed [to send a messenger], He would have sent down angels. We have not heard of this among our forefathers.
Shakir: And the chiefs of those who disbelieved from among his people said: He is nothing but a mortal like yourselves who desires that he may have superiority over you, and if Allah had pleased, He could certainly have sent down angels. We have not heard of this among our fathers of yore:
Yusuf Ali: The chiefs of the Unbelievers among his people said: "He is no more than a man like yourselves: his wish is to assert his superiority over you: if Allah had wished (to send messengers), He could have sent down angels; never did we hear such a thing (as he says), among our ancestors of old."
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

منفرد ایت
نوحؑ کے بارے میں