اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 17-پارہ نمبر                The Pilgrimage-22 سورت الحج  Ayah No-55 ایت نمبر

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ
آسان اُردو اور کفر کرنے (نہ ماننے) والے اس (پیغام) کے شک میں باز نہیں آئیں گے حتی کہ اُن کے پاس (موت کی) گھڑی اچانک آ جائے، یا اُن کے پاس ایک تباہی (قیامت) والے دن کا عذاب آ جائے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اس (کلام) کی طرف سے برابر شک ہی میں پڑے رہیں گے، یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے، یا ایسے دن کا عذاب ان تک آپہنچے جو (ان کے لیے) کسی بھلائی کو جنم دینے کی صلاحیت سے خالی ہوگا۔
ابو الاعلی مودودی انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آ جائے، یا ایک منحوس دن کا عذاب نازل ہو جائے
احمد رضا خان اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے اچانک یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس کا پھل ان کے لیے کچھ اچھا نہ ہو
احمد علی اور منکر قرآن کی طرف سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت یکاک ان پر آ مودجود ہو یا منحوس دن کا عذاب ان پر نازل ہو
فتح جالندھری اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت ان پر ناگہاں آجائے یا ایک نامبارک دن کا عذاب ان پر واقع ہو
طاہر القادری اور کافر لوگ ہمیشہ اس (قرآن) کے حوالے سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک ان پر قیامت آپہنچے یا اس دن کا عذاب آجائے جس سے نجات کا کوئی امکان نہیں،
علامہ جوادی اور یہ کفر اختیار کرنے والے ہمیشہ اس کی طرف سے شبہ ہی میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک ان کے پاس قیامت آجائے یا کسی منحوس دن کا عذاب وارد ہوجائے
ایم جوناگڑھی کافر اس وحی الٰہی میں ہمیشہ شک شبہ ہی کرتے رہیں گے حتیٰ کہ اچانک ان کے سروں پر قیامت آجائے یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو منحوس ہے
حسین نجفی اور جو کافر ہیں وہ تو ہمیشہ اس کی طرف سے شک میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت ان پر آجائے۔ یا پھر منحوس دن کا عذاب ان پر آجائے۔
=========================================
M.Daryabadi: And those who disbelieve will not cease to be in doubt thereof until the Hour cometh upon them on a sudden, or there cometh upon them the torment of a Barren Day.
M.M.Pickthall: And those who disbelieve will not cease to be in doubt thereof until the Hour come upon them unawares, or there come unto them the doom of a disastrous day.
Saheeh International: But those who disbelieve will not cease to be in doubt of it until the Hour comes upon them unexpectedly or there comes to them the punishment of a barren Day.
Shakir: And those who disbelieve shall not cease to be in doubt concerning it until the hour overtakes them suddenly, or there comes on them the chastisement of a destructive day.
Yusuf Ali: Those who reject Faith will not cease to be in doubt concerning (Revelation) until the Hour (of Judgment) comes suddenly upon them, or there comes to them the Penalty of a Day of Disaster.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے