اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 17-پارہ نمبر                The Pilgrimage-22 سورت الحج  Ayah No-45 ایت نمبر

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ
آسان اُردو پھرکتنی ہی بستیوں میں سے(بستی) تھی، اُس کو ہم نے ہلاک کر دیا اور وہ ظالم (نافرمان)) تھی پھر وہ (بستی) اپنے چھتوں پر گر پڑی، اور اجڑاکنواں اور اعلی محل (قصر)
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی غرض کتنی بستیاں تھیں جن کو ہم نے اس وقت ہلاک کیا جب وہ ظلم کر رہی تھیں، چنانچہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری پڑی ہیں، اور کتنے ہی کنویں جو اب بیکار ہوئے پڑے ہیں، اور کتنے پکے بنے ہوئے محل (جو کھنڈر بن چکے ہیں)۔
ابو الاعلی مودودی کتنی ہی خطاکاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنویں بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں
احمد رضا خان اور کتنی ہی بستیاں ہم نے کھپادیں (ہلاک کردیں) کہ وہ ستمگار تھیں تو اب وہ اپنی چھتوں پر ڈہی (گری) پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے اور کتنے محل گچ کیے ہوئے
احمد علی سو کتنی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں اور وہ گناہ گار تھیں اب وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے کنوئیں نکمے اور کتنے پکے محل اجڑے اجڑے پڑے ہیں
فتح جالندھری اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں۔ سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ اور (بہت سے) کنوئیں بےکار اور (بہت سے) محل ویران پڑے ہیں
طاہر القادری پھر کتنی ہی (ایسی) بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (ان کی ہلاکت سے) کتنے کنویں بے کار (ہوگئے) اور کتنے مضبوط محل اجڑے پڑے (ہیں)،
علامہ جوادی غرض کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تباہ و برباد کردیا کہ وہ ظالم تھیں تو اب وہ اپنی چھتوں کے بل الٹی پڑی ہیں اور ان کے کنویں معطل پڑے ہیں اور ان کے مضبوط محل بھی مسمار ہوگئے ہیں
ایم جوناگڑھی بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ وباﻻ کر دیا اس لئے کہ وه ﻇالم تھے پس وه اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں
حسین نجفی کتنی ہی خطاکاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنویں بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں
=========================================
M.Daryabadi: How many a city have We destroyed, while it was a wrong- doer--and it lieth overturned on its roofs, -and how many a well abandoned and how many a castle fortifred!
M.M.Pickthall: How many a township have We destroyed while it was sinful, so that it lieth (to this day) in, and (how many) a deserted well and lofty tower!
Saheeh International: And how many a city did We destroy while it was committing wrong - so it is [now] fallen into ruin - and [how many] an abandoned well and [how many] a lofty palace.
Shakir: So how many a town did We destroy while it was unjust, so it was fallen down upon its roofs, and (how many a) deserted well and palace raised high.
Yusuf Ali: How many populations have We destroyed, which were given to wrong-doing? They tumbled down on their roofs. And how many wells are lying idle and neglected, and castles lofty and well-built?
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

ایت کا پچھلی ایت سے تسلسل ہے