Chapter No 17-پارہ نمبر   ‹             The Prophets-21 سورت الانبیاء  ›Ayah No-44 ایت نمبر
| بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَاؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ |
| آسان اُردو | نہیں! ہم اِن کو اور اِن کے باپ داداکو آسانی دیتے ہیں حتی کہ اُن پرعمر بڑھتی جاتی ہے. کیا پھروہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین پر آتے ہیں (اور)ہم اس کو اس کی طرفوں (کناروں) سے گھٹاتے ہیں. کیا پھر وہ (کافرین)غالب ہو جائیں گے؟ |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | بلکہ معاملہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے آباؤاجداد کو سامان عیش عطا کیا، یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان پر ایک عمر گزر گئی۔ بھلا کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو اس کے مختلف کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں۔ پھر کیا وہ غالب آجائیں گے ؟ |
| ابو الاعلی مودودی | اصل بات یہ ہے کہ اِن لوگوں کو اور اِن کے آباء و اجداد کو ہم زندگی کا سر و سامان دیے چلے گئے یہاں تک کہ اِن کو دن لگ گئے مگر کیا اِنہیں نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں؟ پھر کیا یہ غالب آ جائیں گے؟ |
| احمد رضا خان | بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں تو کیا یہ غالب ہوں گے |
| احمد علی | بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر ایک عرصہ دراز گزر گیا کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بے شک ہم زمین کو ہر طرف سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں سو کیا یہ لوگ غالب آنے والے ہیں |
| فتح جالندھری | بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟ |
| طاہر القادری | بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو (فراخئ عیش سے) بہرہ مند فرمایا تھا یہاں تک کہ ان کی عمریں بھی دراز ہوتی گئیں، تو کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم (اب اسلامی فتوحات کے ذریعہ ان کے زیرِ تسلّط) علاقوں کو تمام اَطراف سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں، تو کیا وہ (اب) غلبہ پانے والے ہیں، |
| علامہ جوادی | بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو تھوڑی سی لّذت دنیا دے دی ہے یہاں تک کہ ان کا زمانہ طویل ہوگیا تو کیا یہ نہیں دیکھتے ہیں کہ ہم برابر زمین کی طرف آتے جارہے ہیں اور اس کو چاروں طرف سے کم کرتے جارہے ہیں کیا اس کے بعد بھی یہ ہم پر غالب آجانے والے ہیں |
| ایم جوناگڑھی | بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے سروسامان دیے یہاں تک کہ ان کی مدت عمر گزر گئی۔ کیا وه نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں، اب کیا وہی غالب ہیں؟ |
| حسین نجفی | بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے آباء و اجداد کو (زندگی کا) سر و سامان دیا یہاں تک کہ ان کی لمبی لمبی عمریں گزر گئیں (عرصہ دراز گزر گیا) کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے اطراف سے برابر گھٹاتے چلے آرہے ہیں تو کیا وہ غالب آسکتے ہیں؟ |
| M.Daryabadi: | Aye! We let these people and their fathers enjoy until there grew long upon them the life. Behold they not that We come unto the land diminishing it by the borders thereof? Shall they then be the victors? |
| M.M.Pickthall: | Nay, but We gave these and their fathers ease until life grew long for them. See they not how we visit the land, reducing it of its outlying parts? Can they then be the victors? |
| Saheeh International: | But, [on the contrary], We have provided good things for these [disbelievers] and their fathers until life was prolonged for them. Then do they not see that We set upon the land, reducing it from its borders? So it is they who will overcome? |
| Shakir: | Nay, We gave provision to these and their fathers until life was prolonged to them. Do they not then see that We are visiting the land, curtailing it of its sides? Shall they then prevail? |
| Yusuf Ali: | Nay, We gave the good things of this life to these men and their fathers until the period grew long for them; See they not that We gradually reduce the land (in their control) from its outlying borders? Is it then they who will win? |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
اللہ کے سوا معبود
٭زمین کو طرفوں سے گھٹانے کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ دن بدن لوگ مرتے ہیں، زمین میں دفن ہوتے جاتے ہیں،
یا اللہ باری تعالی زمین کی توڑ پھوڑ کر کے اس کو کم کررہا ہے. برحال اس باری تعالی کی طرف رجوع ہے وہی بہتر سمجھتا ہے