Chapter No 16-پارہ نمبر   ‹                            Ta Ha-20 سورت طٰهٰ  ›Ayah No-87 ایت نمبر
| قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ |
| آسان اُردو | اُنہوں نے کہا: ہم نے اپنے اختیارسے تیرے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی، لیکن ہم پر لوگوں کے زیورات کا بوجھ ڈال دیا گیا تھا، پھر ہم نے اُن (زیورات) کو (آگ میں) پگلا دیا پھر سامری نے بھی اسطرح ڈال دیا؛ |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | کہنے لگے : ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ ہوا یہ کہ ہم پر لوگوں کے زیورات کے بوجھ لدے ہوئے تھے، اس لیے ہم نے انہیں پھینک دیا۔ پھر اسی طرح سامری نے کچھ ڈالا |
| ابو الاعلی مودودی | انہوں نے جواب دیا "ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہُوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لَد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا" پھر اس طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا |
| احمد رضا خان | بولے ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا لیکن ہم سے کچھ بوجھ اٹھوائے گئے اس قوم کے گہنے کے تو ہم نے انہیں ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈالا |
| احمد علی | کہا ہم نےاپنے اختیا ر سے آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی لیکن ہم سے اس قوم کے زیور کا بوجھ اٹھوایا گیا تھا سو ہم نے اسے ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈال دیا |
| فتح جالندھری | وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا |
| طاہر القادری | وہ بولے: ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی مگر (ہوا یہ کہ) قوم کے زیورات کے بھاری بوجھ ہم پر لاد دیئے گئے تھے تو ہم نے انہیں (آگ میں) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے (بھی) ڈال دیئے، |
| علامہ جوادی | قوم نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدہ کی مخالفت نہیں کی ہے بلکہ ہم پر قوم کے زیورات کا بوجھ لاد دیا گیا تھا تو ہم نے اسے آگ میں ڈال دیا اور اس طرح سامری نے بھی اپے زیورات کو ڈال دیا |
| ایم جوناگڑھی | انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنےاختیار سے آپ کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم پر زیورات قوم کے جو بوجھ ﻻد دیے گئے تھے انہیں ہم نے ڈال دیا، اور اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیئے |
| حسین نجفی | قوم نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے تو آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی (البتہ بات یوں ہوئی) کہ ہمیں اس جماعت کے زیورات جمع کرکے لانے پر آمادہ کیا گیا اور یہ سامری ایک (سنہرا) بچھڑا نکال کر لایا۔ جس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی۔ |
| M.Daryabadi: | They said: we failed not to keep thy appointment of our own authority, but we were laden with burthens of the people's ornaments; then we threw them, and Thus Samiri cast down. |
| M.M.Pickthall: | They said: We broke not tryst with thee of our own will, but we were laden with burdens of ornaments of the folk, then cast them (in the fire), for thus As-Samiri proposed; |
| Saheeh International: | They said, "We did not break our promise to you by our will, but we were made to carry burdens from the ornaments of the people [of Pharaoh], so we threw them [into the fire], and thus did the Samiri throw." |
| Shakir: | They said: We did not break (our) promise to you of our own accord, but we were made to bear the burdens of the ornaments of the people, then we made a casting of them, and thus did the Samiri suggest. |
| Yusuf Ali: | They said: "We broke not the promise to thee, as far as lay in our power: but we were made to carry the weight of the ornaments of the (whole) people, and we threw them (into the fire), and that was what the Samiri suggested. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
تاریخی ایت: ایک ایسی آیت جس میں گذشتہ دور میں ہونے والے واقعات ہوتے ہیں
موسی ؑ کی کہانی