اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 16-پارہ نمبر                               Ta Ha-20 سورت طٰهٰ  Ayah No-72 ایت نمبر

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ
آسان اُردو انہوں نے کہا: ہم تمہیں (اے فرعون) برتری نہیں دیتے اُس پر جو واضح نشانیوں سے ہم تک آ چکی ہیں اور جس نے ہمیں پیدا کیا ہے. چنانچہ حکم کر لے جو جو حکم کر سکتا ہے. تُو تو صرف اس دنیاوی زندگی کا ہی فیصلہ کر سکتا ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی جادوگروں نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ ہمارے سامنے جو روشن نشانیاں آگئی ہیں ان پر ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے۔ اب تمہیں جو کچھ کرنا ہو، کرلو۔ تم جو کچھ بھی کرو گے اسی دنیوی زندگی کے لیے ہوگا۔
ابو الاعلی مودودی جادوگروں نے جواب دیا "قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آ جانے کے بعد بھی (صداقت پر) تجھے ترجیح دیں، تُو جو کچھ کرنا چاہے کر لے تو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دُنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے
احمد رضا خان بولے ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ہمیں اپنے پیدا کرنے والے والے کی قسم تو تُو کر چُک جو تجھے کرنا ہے تو اس دنیا ہی کی زندگی میں تو کرے گا
احمد علی کہا ہم تجھے ہرگزترجیح نہ دیں گے ان کھلی ہوئی نشانیوں کے مقابلہ میں جو ہمارے پاس آ چکی ہیں اورنہ اس کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے سو تو کر گزر جو تجھے کرنا ہے تو صرف اس دنیا کی زندگی پر حکم چلا سکتا ہے
فتح جالندھری انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دے دیجیئے۔ اور آپ (جو) حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)
طاہر القادری (جادوگروں نے) کہا: ہم تمہیں ہرگز ان واضح دلائل پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے پاس آچکے ہیں، اس (رب) کی قسم جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہے! تو جو حکم کرنے والا ہے کر لے، تُو فقط (اس چند روزہ) دنیوی زندگی ہی سے متعلق فیصلہ کر سکتا ہے،
علامہ جوادی ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو کھلی نشانیاں آچکی ہیں اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہے ہم اس پر تیری بات کو مقدم نہیں کرسکتے اب تجھے جو فیصلہ کرنا ہو کرلے تو فقط اس زندگانی دنیا ہی تک فیصلہ کرسکتا ہے
ایم جوناگڑھی انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آچکیں اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اب تو تو جو کچھ کرنے وﻻ ہے کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وه اسی دنیوی زندگی میں ہی ہے
حسین نجفی جادوگروں نے کہا ہمارے پاس جو کھلی نشانیاں آچکی ہیں ہم ان پر اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ کبھی تجھے ترجیح نہیں دیں گے بےشک تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے وہ تو (زیادہ سے زیادہ) اسی دنیاوی زندگی (کے ختم کرنے) کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: They said: we shall by no means prefer thee to that which hath come to us of the evidences, and to Him Who hath created us; so decree thou whatsoever thou shalt decree; thou canst only decree in respect of the life of this world.
M.M.Pickthall: They said: We choose thee not above the clear proofs that have come unto us, and above Him Who created us. So decree what thou wilt decree. Thou wilt end for us only the life of the world.
Saheeh International: They said, "Never will we prefer you over what has come to us of clear proofs and [over] He who created us. So decree whatever you are to decree. You can only decree for this worldly life.
Shakir: They said: We do not prefer you to what has come to us of clear arguments and to He Who made us, therefore decide what you are going to decide; you can only decide about this world's life.
Yusuf Ali: They said: "Never shall we regard thee as more than the Clear Signs that have come to us, or than Him Who created us! so decree whatever thou desirest to decree: for thou canst only decree (touching) the life of this world.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
تاریخی ایت: ایک ایسی آیت جس میں گذشتہ دور میں ہونے والے واقعات ہوتے ہیں
موسی ؑ کی کہانی