|
ایم تقی عثمانی
|
اے ایمان والو۔ جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے وہ دن آنے سے پہلے پہلے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرلو جس دن نہ کوئی سودا ہوگا نہ کوئی دوستی (کام آئے گی) اور نہ کوئی سفارش ہوسکے گی۔ اور ظالم وہ لوگ ہیں جو کفر اختیار کیے ہوئے ہیں۔
|
|
ابو الاعلی مودودی
|
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے، جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی اور ظالم اصل میں وہی ہیں، جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں
|
|
احمد رضا خان
|
اے ایمان والو! اللہ کی راہ میں ہمارے دیئے میں سے خرچ کرو وہ دن آنے سے پہلے جس میں نہ خرید و فروخت ہے اور نہ کافروں کے لئے دوستی اور نہ شفاعت، اور کافر خود ہی ظالم ہیں
|
|
احمد علی
|
اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرو اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہو گی اور نہ کوئی دوستی اور نہ کوئی سفارش اور کافر وہی ظالم ہیں
|
|
فتح جالندھری
|
اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرو اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہو گی اور نہ کوئی دوستی اور نہ کوئی سفارش اور کافر وہی ظالم ہیں
|
|
طاہر القادری
|
اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے (اﷲ کی راہ میں) خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اور (کافروں کے لئے) نہ کوئی دوستی (کار آمد) ہوگی اور نہ (کوئی) سفارش، اور یہ کفار ہی ظالم ہیں،
|
|
علامہ جوادی
|
اے ایمان والو جو تمہیں رزق دیا گیا ہے اس میں سے راسِ خدا میں خرچ کرو قبل اسکے کہ وہ دن آجائے جس دن نہ تجارت ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش. اورکافرین ہی اصل میں ظالمین ہیں
|
|
ایم جوناگڑھی
|
اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وه دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی اور شفاعت اور کافر ہی ﻇالم ہیں
|
|
حسین نجفی
|
اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے کچھ (راہِ خدا میں) خرچ کرو۔ قبل اس کے کہ وہ دن (قیامت) آجائے کہ جس میں نہ سودے بازی ہوگی، نہ دوستی (کام آئے گی) اور نہ ہی سفارش۔ اور جو کافر ہیں وہی دراصل ظالم ہیں۔
|
|
M.Daryabadi:
|
O O Ye who believe: expend of that which We have provided you ere the Day cometh wherein there will be neither bargain nor friendship nor intercession. And the infidels - they are the wrong-doers.
|
|
M.M.Pickthall:
|
O ye who believe! Spend of that wherewith We have provided you ere a day come when there will be no trafficking, nor friendship, nor intercession. The disbelievers, they are the wrong doers
|
|
Saheeh International:
|
O you who have believed, spend from that which We have provided for you before there comes a Day in which there is no exchange and no friendship and no intercession. And the disbelievers - they are the wrongdoers.
|
|
Shakir:
|
O you who believe! spend out of what We have given you before the day comes in which there is no bargaining, neither any friendship nor intercession, and the unbelievers-- they are the unjust.
|
|
Yusuf Ali:
|
Believers, spend out of what We have given you, before the Day comes when there will be neither trading, friendship nor intercession. Truly, it is those who deny the truth who are the wrongdoers.
|