اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 16-پارہ نمبر                     The Cave-18 سورت الکھف  Ayah No-82 ایت نمبر

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًاۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًاؕ۠
آسان اُردو اور جودیوار تھی، یہ دویتیم لڑکوں کی تھی وہ شہرمیں (رہتے)تھے، اور اس (دیوار)کے نیچے اُن (لڑکوں) کے لیے ایک خزانہ تھا اور اُن کا باپ ایک نیک (صالح) انسان تھاپس تیرے رب نے چاہا کہ وہ دونوں (لڑکے) جوان ہو جائیں اوروہ اپنا خزانہ نکال لیں. یہ تمہارے رب کی طرف سے رحمت تھی اور میں نے یہ (سب کچھ) اپنے امر(حکم) سے تو نہیں کیا تھا. یہ (سب باتوں کی) تاویل (تشریح، راز)ہے جن پر تم صبر نہ کر سکے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی رہی یہ دیوار، تو وہ اس شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی، اور اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ گڑا ہوا تھا، اور ان دونوں کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے آپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کی عمر کو پہنچیں، اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ سب کچھ آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہوا ہے، اور میں نے کوئی کام اپنی رائے سے نہیں کیا۔ یہ تھا مقصد ان باتوں کا جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا۔
ابو الاعلی مودودی اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں اس دیوار کے نیچے اِن بچّوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچّے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پرکیا گیا ہے، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے"
احمد رضا خان رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں، آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا یہ پھیر ہے ان باتوں کا جس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا
احمد علی اور جو دیوار تھی سو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا پس تیرے رب نے چاہا کہ وہ جوان ہو کر اپنا خزانہ تیرے رب کی مہربانی سے نکالیں اور یہ کام میں نے اپنے ارادے سے نہیں کیا یہ حقیقت ہے اس کی جس پر تو صبر نہیں کر سکا
فتح جالندھری اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے
طاہر القادری اور وہ جو دیوار تھی تو وہ شہر میں (رہنے والے) دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لئے ایک خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ صالح (شخص) تھا، سو آپ کے رب نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے وہ اپنا خزانہ (خود ہی) نکالیں، اور میں نے (جو کچھ بھی کیا) وہ اَز خود نہیں کیا، یہ ان (واقعات) کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کر سکے،
علامہ جوادی اور یہ دیوار شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا اور ان کا باپ ایک نیک بندہ تھا تو آپ کے پروردگار نے چاہا کہ یہ دونوں طاقت و توانائی کی عمر تک پہنچ جائیں اور اپنے خزانے کو نکال لیں- یہ سب آپ کے پروردگار کی رحمت ہے اور میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کیا ہے اور یہ ان باتوں کی تاویل ہے جن پر آپ صبر نہیں کرسکے ہیں
ایم جوناگڑھی دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے، ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں، میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا، یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا
حسین نجفی باقی رہا دیوار کا معاملہ تو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان بچوں کا خزانہ (دفن) تھا۔ اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں اور یہ سب کچھ پروردگار کی رحمت کی بناء پر ہوا ہے۔ اور میں نے جو کچھ کیا ہے اپنی مرضی سے نہیں کیا (بلکہ خدا کے حکم سے کیا) یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔
=========================================
M.Daryabadi: And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the town and underneath it was a treasure belonging to them and their father had been righteous. So thy Lord intended that the twain should attain their maturity and bring forth for themselves their treasure as a mercy from thy Lord. And I did it not of mine own command; that is the interpretation of that wherewith thou wast not able to have patience.
M.M.Pickthall: And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure belonging to them and their father had been righteous, and thy Lord intended that they should come to their full strength and should bring forth their treasure as a mercy from their Lord; and I did it not upon my own command. Such is the interpretation of that wherewith thou couldst not bear.
Saheeh International: And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure for them, and their father had been righteous. So your Lord intended that they reach maturity and extract their treasure, as a mercy from your Lord. And I did it not of my own accord. That is the interpretation of that about which you could not have patience."
Shakir: And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure belonging to them, and their father was a righteous man; so your Lord desired that they should attain their maturity and take out their treasure, a mercy from your Lord, and I did not do it of my own accord. This is the significance of that with which you could not have patience.
Yusuf Ali: "As for the wall, it belonged to two youths, orphans, in the Town; there was, beneath it, a buried treasure, to which they were entitled: their father had been a righteous man: So thy Lord desired that they should attain their age of full strength and get out their treasure - a mercy (and favour) from thy Lord. I did it not of my own accord. Such is the interpretation of (those things) over which thou wast unable to hold patience."
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
موسی ؑ اور اللہ کے بندے کی بات چیت