Chapter No 15-پارہ نمبر   ‹                  The Cave-18 سورت الکھف  ›Ayah No-60 ایت نمبر
| وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا |
| آسان اُردو | اور جب موسٰیؐ نے اپنے نوکر سے کہا: میں ہمت نہیں ہاروں گا حتی کہ دو دریاؤں کے ملنے کے مقام کو پہنچوں یا مجھے برسوں چلنا پڑے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور (اس وقت کا ذکر سنو) جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (شاگرد) سے کہا تھا کہ : میں اس وقت تک اپنا سفر جاری رکھوں گا جب تک دو سمندروں کے سنگھم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ برسوں چلتا رہوں گا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | (ذرا اِن کو وہ قصہ سناؤ جو موسیٰؑ کو پیش آیا تھا) جبکہ موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا تھا کہ "میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ میں ایک زمانہ دراز تک چلتا ہی رہوں گا" |
| احمد رضا خان | اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا میں باز نہ رہوں گا جب تک وہاں نہ پہنچوں جہاں دو سمندر ملے ہیں یا قرنوں (مدتوں تک) چلا جاؤں |
| احمد علی | اورجب موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا کہ میں نہ ہٹوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر پہنچ جاؤں یا سالہا سال چلتا جاؤں |
| فتح جالندھری | اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں |
| طاہر القادری | اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں |
| علامہ جوادی | اور اس وقت کو یاد کرو جب موسٰی نے اپنے جوان سے کہا کہ میں چلنے سے باز نہ آؤں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر پہنچ جاؤں یا یوں ہی برسوں چلتا رہوں |
| ایم جوناگڑھی | جب کہ موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچوں، خواه مجھے سالہا سال چلنا پڑے |
| حسین نجفی | اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ (ع) نے اپنے جوان سے کہا کہ میں برابر سفر جاری رکھوں گا یہاں تک کہ اس جگہ پہنچوں جہاں دو دریا اکٹھے ہوتے ہیں یا پھر (یونہی چلتے چلتے) سالہا سال گزار دوں گا۔ |
| M.Daryabadi: | And recall what time Musa said unto his page: I shall not cease until I reach the confluence of the two seas, or I shall go on for ages. |
| M.M.Pickthall: | And when Moses said unto his servant: I will not give up until I reach the point where the two rivers meet, though I march on for ages. |
| Saheeh International: | And [mention] when Moses said to his servant, "I will not cease [traveling] until I reach the junction of the two seas or continue for a long period." |
| Shakir: | And when Musa said to his servant: I will not cease until I reach the junction of the two rivers or I will go on for years. |
| Yusuf Ali: | Behold, Moses said to his attendant, "I will not give up until I reach the junction of the two seas or (until) I spend years and years in travel." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد یا الگ آیت: ایک الگ بات یا موضوع کے بارے میں ہے
موسی ؑ اور انے کے نوکر کے سفر کے بارے میں
علمی ایت: بنیادی طور پر اس ایت سے انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایت کا کچھ حصہ محکم یا متاشبہ ہو بھی یا نہیں بھی ہو سکتا۔
تاریخی ایت: ایک ایسی آیت جس میں گذشتہ دور میں ہونے والے واقعات ہوتے ہیں