Chapter No 15-پارہ نمبر   ‹                  The Cave-18 سورت الکھف  ›Ayah No-55 ایت نمبر
| وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا |
| آسان اُردو | اور(کسی نے) لوگوں کو روکا تو نہیں کہ وہ ایمان لے آئیں جب اُن کے پاس ہدایت آ گئی ہے اور اپنے رب کی معافی مانگیں ماسوائے کہ اُن کے پاس پہلوں کا طریقہ (سلوک) آ جائے(جو اُن کے ساتھ کیا گیا تھا)، یا اُن کے پاس عذاب(آنکھوں کے) سامنے آ جائے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آچکی تو اب انہیں ایمان لانے اور اپنے رب سے معافی مانگنے سے اس (مطالبے) کے سوا کوئی اور چیز نہیں روک رہی کہ ان کے ساتھ بھی پچھلے لوگوں جیسے واقعات پیش آجائیں، یا عذاب ان کے بالکل سامنے آکھڑا ہو۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اُن کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے رب کے حضور معافی چاہنے سے آخر اُن کوکس چیز نے روک دیا؟ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ اُن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کے ساتھ ہو چکا ہے، یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں! |
| احمد رضا خان | اور آدمیوں کو کسی چیز نے اس سے روکا کہ ایمان لاتے جب ہدایت ان کے پاس آئی اور اپنے رب سے معافی مانگتے مگر یہ کہ ان پر اگلوں کا دستور آئے یا ان پر قسم قسم کا عذاب آئے، |
| احمد علی | اور جب ان کے پاس ہدایت آئی تو انہیں ایمان لانے اور اپنے رب سے معافی مانگنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ انہیں پہلی امتوں کا سا معاملہ پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آجائے |
| فتح جالندھری | اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو |
| طاہر القادری | اور لوگوں کو جبکہ ان کے پاس ہدایت آچکی تھی کسی نے (اس بات سے) منع نہیں کیا تھا کہ وہ ایمان لائیں اور اپنے رب سے مغفرت طلب کریں سوائے اس (انتظار) کے کہ انہیں اگلے لوگوں کا طریقہ (ہلاکت) پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آجائے، |
| علامہ جوادی | اور لوگوں کے لئے ہدایت کے آجانے کے بعد کون سی شے مانع ہوگئی ہے کہ یہ ایمان نہ لائیں اوراپنے پروردگار سے استغفار نہ کریں مگر یہ کہ ان تک بھی اگلے لوگوں کا طریقہ آجائے یا ان کے سامنے سے بھی عذاب آجائے |
| ایم جوناگڑھی | لوگوں کے پاس ہدایت آچکنے کے بعد انہیں ایمان ﻻنے اور اپنے رب سے استغفار کرنے سے صرف اسی چیز نے روکا کہ اگلے لوگوں کا سا معاملہ انہیں بھی پیش آئے یا ان کے سامنے کھلم کھلا عذاب آموجود ہوجائے |
| حسین نجفی | اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی ہے تو ان کو ایمان لانے اور مغفرت طلب کرنے سے منع نہیں کیا۔ مگر اس چیز نے کہ اگلی قوموں کا معاملہ انہیں بھی پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آئے۔ |
| M.Daryabadi: | And naught preventeth mankind from believing when the guidance hath come unto them, and from asking foregiveness of their Lord, but that there may come unto them the dispensation of the ancients, or that the torment may come Unto them face to face. |
| M.M.Pickthall: | And naught hindereth mankind from believing when the guidance cometh unto them, and from asking for forgiveness of their Lord, unless (it be that they wish) that the judgment of the men of old should come upon them or (that) they should be confronted with the Doom. |
| Saheeh International: | And nothing has prevented the people from believing when guidance came to them and from asking forgiveness of their Lord except that there [must] befall them the [accustomed] precedent of the former peoples or that the punishment should come [directly] before them. |
| Shakir: | And nothing prevents men from believing when the guidance comes to them, and from asking forgiveness of their Lord, except that what happened to the ancients should overtake them, or that the chastisement should come face to face with them. |
| Yusuf Ali: | And what is there to keep back men from believing, now that Guidance has come to them, nor from praying for forgiveness from their Lord, but that (they ask that) the ways of the ancients be repeated with them, or the Wrath be brought to them face to face? |
آیت کے متعلق اہم نقاط
منفرد یا الگ آیت: ایک الگ بات یا موضوع کے بارے میں ہے
واضح ایت
علمی ایت
یعنی لوگ اپنی اکڑ کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے