Chapter No 15-پارہ نمبر   ‹                  The Cave-18 سورت الکھف  ›Ayah No-35 ایت نمبر
| وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ |
| آسان اُردو | اور وہ اپنے باغ میں داخل ہوا اور وہ اپنی جان کے لیے ایک ظالم تھا. اُس نے کہا: میں نہیں خیال کرتا کہ یہ(سب)کبھی بھی تباہ (یا ضائع) ہو سکتا ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور وہ اپنی جان پر ستم ڈھاتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا : میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی بھی تباہ ہوگا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا "میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی |
| احمد رضا خان | اپنے باغ میں گیا اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا بولا مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فنا ہو، |
| احمد علی | اور اپنے باغ میں داخل ہوا ایسے حال میں کہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا کہا میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہو گا |
| فتح جالندھری | اور (ایسی شیخیوں) سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو |
| طاہر القادری | اور وہ (اسے لے کر) اپنے باغ میں داخل ہوا (تکبّر کی صورت میں) اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے کہنے لگا: میں یہ گمان (ہی) نہیں کرتا کہ یہ باغ تباہ ہوگا، |
| علامہ جوادی | وہ اسی عالم میں اپنے نفس پر ظلم کررہا تھا اپنے باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ میں تو خیال بھی کرتا ہوں کہ یہ کبھی تباہ بھی نہیں ہوسکتا ہے |
| ایم جوناگڑھی | اور یہ اپنے باغ میں گیا اور تھا اپنی جان پر ﻇلم کرنے واﻻ۔ کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کرسکتا کہ کسی وقت بھی یہ برباد ہوجائے |
| حسین نجفی | اور وہ (ایک دن) اپنے باغ میں داخل ہوا جبکہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا تھا (اور) کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کرتا کہ یہ (باغ) کبھی تباہ ہو جائے گا۔ |
| M.Daryabadi: | And he entered his garden, while he was a wrong-doer in respect of his own soul; he said: I imagine not that this shall ever perish. |
| M.M.Pickthall: | And he went into his garden, while he (thus) wronged himself. He said: I think not that all this will ever perish: |
| Saheeh International: | And he entered his garden while he was unjust to himself. He said, "I do not think that this will perish - ever. |
| Shakir: | And he entered his garden while he was unjust to himself. He said: I do not think that this will ever perish |
| Yusuf Ali: | He went into his garden in a state (of mind) unjust to his soul: He said, "I deem not that this will ever perish, |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
دو باغات کی مثال