Chapter No 15-پارہ نمبر   ‹       The Children of Israel-17 سورت بنی اسرائیل  ›Ayah No-7 ایت نمبر
| اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا |
| آسان اُردو | (یہ کہتے ہوئے کہ) اگر تم (بنی اسرائیل)اچھائی کرتے ہوتو تم اچھائی اپنی جانوں کے لئے کرتے ہو، اور اگر تم بُرائی کرتے ہو، تو پھراُس کے لیے(بھی سزا) ہے. پھر جب دوسرا وعدہ آ یا (تو ہم نے تم پر اپنے بندے مسلط کر دیئے) تا کہ تمہارے چہروں کو خراب کر دیں (یعنی تمہارا حلیہ بگاڑ دیں) اور تاکہ وہ مسجد میں داخل ہو جائیں جیسے اُس میں پہلی بار داخل ہو گئے تھے،اور تاکہ وہ تباہ و بربادکر دیں جو(چیز) قبضہ کریں ایک بڑی تباہی(کریں) |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اگر تم اچھے کام کرو گے تو اپنے ہی فائدے کے لیے کرو گے، اور برے کام کرو گے تو بھی وہ تمہارے لیے ہی برا ہوگا۔ چنانچہ جب دوسرے واقعے کی میعاد آئی (تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کردیا) تاکہ وہ تمہارے چہروں کو بگاڑ ڈالیں، اور تاکہ وہ مسجد میں اسی طرح داخل ہوں جیسے پہلے لوگ داخل ہوئے تھے، اور جس جس چیز پر ان کا زور چلے، اس کو تہس نہس کر کے رکھ دیں۔ |
| ابو الاعلی مودودی | دیکھو! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اُسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اُسے تباہ کر کے رکھ دیں |
| احمد رضا خان | اگر تم بھلائی کرو گے اپنا بھلا کرو گے اور اگر بُرا کرو گے تو اپنا، پھر جب دوسری بار کا وعدہ آیا کہ دشمن تمہارا منہ بگاڑ دیں اور مسجد میں داخل ہوں جیسے پہلی بار داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں تباہ کرکے برباد کردیں، |
| احمد علی | اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے ہی لیےکی اور اگر برائی کی تو وہ بھی اپنے ہی لیےکی پھر جب دوسرا وعدہ آیا تاکہ تمہارے چہروں پر رسوائی پھیر دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح پہلی بار گھس گئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں اس کا ستیاناس کر دیں |
| فتح جالندھری | اگر تم نیکوکاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے۔ اور اگر اعمال بد کرو گے تو (اُن کا) وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہوگا پھر جب دوسرے (وعدے) کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اُسے تباہ کردیں |
| طاہر القادری | اگر تم بھلائی کرو گے تو اپنے (ہی) لئے بھلائی کرو گے، اور اگر تم برائی کرو گے تو اپنی (ہی) جان کے لئے، پھر جب دوسرے وعدہ کی گھڑی آئی (تو اور ظالموں کو تم پر مسلّط کر دیا) تاکہ (مار مار کر) تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ مسجدِ اقصٰی میں (اسی طرح) داخل ہوں جیسے اس میں (حملہ آور لوگ) پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے اور تاکہ جس (مقام) پر غلبہ پائیں اسے تباہ و برباد کر ڈالیں، |
| علامہ جوادی | اب تم نیک عمل کرو گے تو اپنے لئے اور برا کرو گے تو اپنے لئے کرو گے-اس کے بعد جب دوسرے وعدہ کا وقت آگیا تو ہم نے دوسری قوم کو مسلّط کردیا تاکہ تمہاری شکلیں بگاڑ دیں اور مسجد میں اس طرح داخل ہوں جس طرح پہلے داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر بھی قابو پالیں اسے باقاعدہ تباہ و برباد کردیں |
| ایم جوناگڑھی | اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے ہی فائده کے لئے، اور اگر تم نے برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لئے، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے بندوں کو بھیج دیا تاکہ) وه تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد میں گھس جائیں۔ اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں |
| حسین نجفی | (دیکھو) اگر تم اچھے کام کروگے تو اپنے لئے ہی کروگے اور اگر برے کام کروگے تو وہ بھی اپنے لئے کروگے پس جب دوسرا وعدہ آگیا (تو ہم نے اور بندوں کو مسلط کر دیا) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اسی طرح (جبراً) داخل ہو جائیں جس طرح پہلی بار (حملہ آور) داخل ہوئے تھے اور تاکہ جس جس چیز پر وہ قابو پائیں اسے تباہ و برباد کر دیں۔ |
| M.Daryabadi: | If ye will do well ye will do well for yourselves, and if ye will do evil it will be against the same. Then when the promise of the second came, We raised up a people that they may disgrace your faces and may enter the Mosque even as they entered it the first time, and that they may destroy with utter destruction whatsoever may fall under their power. |
| M.M.Pickthall: | (Saying): If ye do good, ye do good for your own souls, and if ye do evil, it is for them (in like manner). So, when the time for the second (of the judgments) came (We roused against you others of Our slaves) to ravage you, and to enter the Temple even as they entered it the first time, and to lay waste all that they conquered with an utter wasting. |
| Saheeh International: | [And said], "If you do good, you do good for yourselves; and if you do evil, [you do it] to yourselves." Then when the final promise came, [We sent your enemies] to sadden your faces and to enter the temple in Jerusalem, as they entered it the first time, and to destroy what they had taken over with [total] destruction. |
| Shakir: | If you do good, you will do good for your own souls, and if you do evil, it shall be for them. So when the second promise came (We raised another people) that they may bring you to grief and that they may enter the mosque as they entered it the first time, and that they might destroy whatever they gained ascendancy over with utter destruction. |
| Yusuf Ali: | If ye did well, ye did well for yourselves; if ye did evil, (ye did it) against yourselves. So when the second of the warnings came to pass, (We permitted your enemies) to disfigure your faces, and to enter your Temple as they had entered it before, and to visit with destruction all that fell into their power. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
بنی اسرائیل کی دوسری باری تباہی