Chapter No 15-پارہ نمبر   ‹       The Children of Israel-17 سورت بنی اسرائیل  ›Ayah No-67 ایت نمبر
| وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُۚ فَلَمَّا نَجّٰكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا |
| آسان اُردو | اور جب تمہیں سمندر میں تکلیف لگتی ہے، تو تم جن کو بھی (مددکے لیے) پکارتے ہوگم (ناکام)ہو جاتے ہیں ماسوائے اسی(یعنی اللہ) کے، پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف نجات یتا ہے، تو تم (اللہ سے)اعراض(کنارہ) کرتے ہو، اورانسان کافر (ناشکرا، منکر) ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور جب سمندر میں تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جن (دیوتاؤں) کو تم پکارا کرتے ہو، وہ سب غائب ہوجاتے ہیں۔ بس اللہ ہی اللہ رہ جاتا ہے۔ پھر جب اللہ تمہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو تم منہ موڑ لیتے ہو۔ اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اُس ایک کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو وہ سب گم ہو جاتے ہیں، مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اُس سے منہ موڑ جاتے ہو انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے |
| احمد رضا خان | اور جب تمہیں دریا میں مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے سوا جنہیں پوجتے ہیں سب گم ہوجاتے ہیں پھر جب تمہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں اور انسان بڑا ناشکرا ہے، |
| احمد علی | اور جب تم پر دریا میں کوئی مصیبت آتی ہے تو بھول جاتے ہو جنہیں الله کے سوا پکارتے تھےپھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے |
| فتح جالندھری | اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی پر لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا |
| طاہر القادری | اور جب سمندر میں تمہیں کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو وہ (سب بت تمہارے ذہنوں سے) گم ہو جاتے ہیں جن کی تم پرستش کرتے رہتے ہو سوائے اسی (اﷲ) کے (جسے تم اس وقت یاد کرتے ہو)، پھر جب وہ (اﷲ) تمہیں بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے (تو پھر اس سے) رُوگردانی کرنے لگتے ہو، اور انسان بڑا ناشکرا واقع ہوا ہے، |
| علامہ جوادی | اور جب دریا میں تمہیں کوئی تکلیف پہنچی تو خدا کے علاوہ سب غائب ہوگئے جنہیں تم پکار رہے تھے اور پھر جب خدا نے تمہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیا تو تم پھر کنارہ کش ہوگئے اور انسان تو بڑا ناشکرا ہے |
| ایم جوناگڑھی | اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہوجاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی ره جاتا ہے۔ پھر جب وه تمہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو تم منھ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے |
| حسین نجفی | اور جب تمہیں سمندر میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ تو اس کے سوا جس جس کو تم پکارتے ہو وہ سب غائب ہو جاتے ہیں اور جب وہ تمہیں (خیریت سے) خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم روگردانی کرنے لگتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ |
| M.Daryabadi: | And when there toucheth you a distress on the sea, those whom ye call upon fall away except Him alone, then when He delivereth you on the land ye turn away: and man is ever ungrateful. |
| M.M.Pickthall: | And when harm toucheth you upon the sea, all unto whom ye cry (for succour) fail save Him (alone), but when He bringeth you safe to land, ye turn away, for man was ever thankless. |
| Saheeh International: | And when adversity touches you at sea, lost are [all] those you invoke except for Him. But when He delivers you to the land, you turn away [from Him]. And ever is man ungrateful. |
| Shakir: | And when distress afflicts you in the sea, away go those whom you call on except He; but when He brings you safe to the land, you turn aside; and man is ever ungrateful. |
| Yusuf Ali: | When distress seizes you at sea, those that ye call upon - besides Himself - leave you in the lurch! but when He brings you back safe to land, ye turn away (from Him). Most ungrateful is man! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
رب العالمین کے بارے میں
علمی ایت
انسان کی فطرت
مدد اللہ کرتا ہے اور انسان دوسروں سے منسوب کرتا ہے