Chapter No 14-پارہ نمبر    ‹           The Bee-16 سورت النحل         ›Ayah No-92 ایت نمبر
| وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ |
| آسان اُردو | اور تم اُس عورت کی طرح نہ ہو جاناجو اپنے سوت(دھاگے) کو، مضبوط کرنے کے بعدباریک ٹکڑے ٹکڑے کر کے توڑ دیتی ہو، (کہ) تم اپنے حلفوں (قسموں) کو اپنے درمیان دھوکے والے بناؤکہ ایک اُمت(جماعت) وہ دوسری اُمت سے زیادہ(تعداد میں یا مضبوط) ہو. اللہ صرف اُن (حلفوں) سے تمہاری آزمائش کرتا ہے اور وہ واقعی تمہیں قیامت کے دن واضح کرے گا جس (معاملے) میں تم اختلاف کیا کرتے تھے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور جس عورت نے اپنے سوت کو مضبوطی سے کاتنے کے بعد اسے ادھیڑ کرتار تار کردیا تھا، اس جیسے نہ بن جانا کہ تم بھی اپنی قسموں کو (توڑ کر) آپس کے فساد کا ذریعہ بنانے لگو، صرف اس لیے کہ کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ فائدے حاصل کرلیں۔ اللہ اس کے ذریعے تمہاری آزمائش کر رہا ہے۔ اور قیامت کے دن وہ تمہیں وہ باتیں ضرور کھول کر بتادے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے حالاں کہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا |
| احمد رضا خان | اور اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا اپنی قسمیں آپس میں ایک بے اصل بہانہ بناتے ہو کہ کہیں ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ نہ ہو اللہ تو اس سے تمہیں آزماتا ہے اور ضرور تم پر صاف ظاہر کردے گا قیامت کے دن جس بات میں جھگڑتے تھے، |
| احمد علی | اور اس عورت جیسے نہ بنو جواپنا سوت محنت کے بعد کاٹ کر توڑ ڈالے کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد کا ذریعہ بنانے لگو محض اس لیے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے الله اس میں تمہاری آزمائش کرتا ہے اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو الله اسے ضرور قیامت کے دن ظاہر کردے گا |
| فتح جالندھری | اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا |
| طاہر القادری | اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کات لینے کے بعد توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، تم اپنی قَسموں کو اپنے درمیان فریب کاری کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ (اس طرح) ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ہو جائے، بات یہ ہے کہ اللہ (بھی) تمہیں اسی کے ذریعہ آزماتا ہے، اور وہ تمہارے لئے قیامت کے دن ان باتوں کو ضرور واضح فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے، |
| علامہ جوادی | اور خبردار اس عورت کے مانند نہ ہوجاؤ جس نے اپنے دھاگہ کو مضبوط کاتنے کے بعد پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا-کیا تم اپنے معاہدے کو اس چالاکی کا ذریعہ بناتے ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرے-اللہ تمہیں ان ہی باتوں کے ذریعے آزما رہا ہے اور یقینا روزِ قیامت اس امر کی وضاحت کردے گا جس میںتم آپس میں اختلاف کررہے تھے |
| ایم جوناگڑھی | اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈاﻻ، کہ تم اپنی قسموں کو آپس کے مکر کا باعﺚ ٹھراؤ، اس لیے کہ ایک گروه دوسرے گروه سے بڑھا چڑھا ہوجائے۔ بات صرف یہی ہے کہ اس عہد سے اللہ تمہیں آزما رہا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے لیے قیامت کے دن ہر اس چیز کو کھول کر بیان کر دے گا جس میں تم اختلاف کر رہے تھے |
| حسین نجفی | خبردار تم اس عورت کی مانند نہ ہو جانا جس نے بڑی مضبوطی سے سوت کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان مکر و فریب کا ذریعہ بناتے ہو۔ تاکہ ایک گروہ دوسرے سے زیادہ فائدہ حاصل کرے اور اللہ اس بات سے تمہاری آزمائش کرتا ہے اور یقیناً قیامت کے دن وہ تمہارے لئے وہ حکمت ظاہر کر دے گا جس میں تم اختلاف کرتے ہو۔ |
| M.Daryabadi: | And be not like unto her who unravelleth her yarn into strands after its strength, holding your oaths a means of discord amongst you that a community may be more numerous than anot her community; Allah only proveth you there by; and He will surely manifest unto you on the Judgment Day that wherein ye have been differing. |
| M.M.Pickthall: | And be not like unto her who unravelleth the thread, after she hath made it strong, to thin filaments, making your oaths a deceit between you because of a nation being more numerous than (another) nation. Allah only trieth you thereby, and He verily will explain to you on the Day of Resurrection that wherein ye differed. |
| Saheeh International: | And do not be like she who untwisted her spun thread after it was strong [by] taking your oaths as [means of] deceit between you because one community is more plentiful [in number or wealth] than another community. Allah only tries you thereby. And He will surely make clear to you on the Day of Resurrection that over which you used to differ. |
| Shakir: | And be not like her who unravels her yarn, disintegrating it into pieces after she has spun it strongly. You make your oaths to be means of deceit between you because (one) nation is more numerous than (another) nation. Allah only tries you by this; and He will most certainly make clear to you on the resurrection day that about which you differed. |
| Yusuf Ali: | And be not like a woman who breaks into untwisted strands the yarn which she has spun, after it has become strong. Nor take your oaths to practise deception between yourselves, lest one party should be more numerous than another: for Allah will test you by this; and on the Day of Judgment He will certainly make clear to you (the truth of) that wherein ye disagree. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
محخم ایت۔ کیوں کہ اس میں واضح احکامات ہیں