Chapter No 14-پارہ نمبر    ‹           The Bee-16 سورت النحل         ›Ayah No-26 ایت نمبر
| قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ |
| آسان اُردو | واقعی مکر (فریب) کیے تھے ان (لوگوں) نے بھی جو اِن (تکبر کرنے والوں ۔۔ مشرکوں)سے پہلے تھے پھر اللہ(کا عذاب) اُن کی عمارتوں کی بنیادوں سے آیا پھر اُن پر چھت اُن کے اوپر سے گرے، اور عذاب اُن کو آیا جہاں سے وہ جان(یعنی سوچ)بھی نہیں سکتے تھے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی مکر کے منصوبے بنائے تھے۔ پھر ہوا یہ کہ (منصوبوں کی) جو عمارتیں انہوں نے تعمیر کی تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں جڑ بنیاد سے اکھاڑ پھینکا، پھر ان کے اوپر سے چھت بھی ان پر آگری، اور ان پر عذاب ایسی جگہ سے آدھمکا جس کا انہیں احساس تک نہیں تھا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے) ایسی ہی مکاریاں کر چکے ہیں، تو دیکھ لو کہ اللہ نے اُن کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آ رہی اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کا اُن کو گمان تک نہ تھا |
| احمد رضا خان | بیشک ان سے اگلوں نے فریب کیا تھا تو اللہ نے ان کی چنائی کو نیو سے (تعمیر کو بنیاد) سے لیا تو اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور عذاب ان پر وہاں سے آیا جہاں کی انہیں خبر نہ تھی |
| احمد علی | ان سے پہلےلوگوں نے بھی مکر کیا تھا پھر الله نے ان کی عمارت کو جڑوں سے ڈھا دیا پھر ان پر اوپر سے چھت گر پڑی اور ان پر عذاب آیا جہاں سے انہیں خبر بھی نہ تھی |
| فتح جالندھری | ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا |
| طاہر القادری | بیشک اُن لوگوں نے (بھی) فریب کیا جو اِن سے پہلے تھے تو اللہ نے اُن (کے مکر و فریب) کی عمارت کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا تو ان کے اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور ان پر اس طرف سے عذاب آپہنچا جس کا اُنہیں کچھ خیال بھی نہ تھا، |
| علامہ جوادی | یقینا ان سے پہلے والوں نے بھی مکاریاں کی تھیں تو عذاب الٰہی ان کی تعمیرات تک آیا اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا اور ان کے سروں پر چھت گر پڑی اور عذاب ایسے انداز سے آیا کہ انہیں شعور بھی نہ پیدا ہوسکا |
| ایم جوناگڑھی | ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی مکر کیا تھا، (آخر) اللہ نے (ان کے منصوبوں) کی عمارتوں کو جڑوں سے اکھیڑ دیا اور ان (کے سروں) پر (ان کی) چھتیں اوپر سے گر پڑیں، اور ان کے پاس عذاب وہاں سے آگیا جہاں کا انہیں وہم وگمان بھی نہ تھا |
| حسین نجفی | جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں انہوں نے بھی (دعوتِ حق کے خلاف) مکاریاں کی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی (مکاریوں والی) عمارت بنیاد سے اکھیڑ دی اور اس کی چھت اوپر سے ان پر آپڑی اور ان پر اس طرف سے عذاب آیا جدھر سے ان کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔ |
| M.Daryabadi: | Surely there plotted those before them, but Allah came upon their structures from the foundations, so the roof fell down upon them from above them and the torment came upon them whence they perceived not. |
| M.M.Pickthall: | Those before them plotted, so Allah struck at the foundations of their building, and then the roof fell down upon them from above them, and the doom came on them whence they knew not; |
| Saheeh International: | Those before them had already plotted, but Allah came at their building from the foundations, so the roof fell upon them from above them, and the punishment came to them from where they did not perceive. |
| Shakir: | Those before them did indeed devise plans, but Allah demolished their building from the foundations, so the roof fell down on them from above them, and the punishment came to them from whence they did not perceive. |
| Yusuf Ali: | Those before them did also plot (against Allah's Way): but Allah took their structures from their foundations, and the roof fell down on them from above; and the Wrath seized them from directions they did not perceive. |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
اللہ کے سوا دوسروں کا پکارنے والے
ھُمْ (ضمیر)اشارہ کرتا ہے ان لوگوں کی طرف جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں
اللہ کا عذاب کہاں سے اور کسطرح سے آ جاتا ہے