Chapter No 13-پارہ نمبر    ‹           Abraham-14 سورت ابراہیم         ›Ayah No-9 ایت نمبر
| اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ |
| آسان اُردو | کیا تمہیں خبر نہیں پہنچی اُن لوگوں کی جو تم سے پہلے تھے (جیسے)قومِ نوحؑ اورعاداورثمود.اور جو لوگ اُن کے بعد تھے؟ اللہ کے سوا کوئی اُن کونہیں جانتا. اُن کے رسول اُن کے پاس واضح ثبوتوں (دلیلوں) سے آئے تھے پھر اُن (لوگوں) نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں ڈالے. اور کہا: بے شک! ہم اُس سے کفر کرتے ہیں جس (چیز) کے ساتھ تم بھیجے گے ہواور بے شک! ہم واقعی اُس سے سخت شک میں ہیں جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | (اے کفار مکہ) کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچتی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی قومیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان سب کے پاس ان کے رسول کھلے کھلے دلائل لے کر آئے، تو انہوں نے ان کہ منہ پر اپنے ہاتھ رکھ دیے، اور کہا کہ : جو پیغام تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے، ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، اور جس بات کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو، اس کے بارے میں ہمیں بڑا بھاری شک ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قوم نوحؑ، عاد، ثمود اور اُن کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو اُنہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ "جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں" |
| احمد رضا خان | کیا تمہیں ان کی خبریں نہ آئیں جو تم سے پہلے تھی نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد ہوئے، انہیں اللہ ہی جانے ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے تو وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ کی طرف لے گئے اور بولے ہم منکر ہیں اس کے جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا اور جس راہ کی طرف ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں وہ شک ہے کہ بات کھلنے نہیں دیتا، |
| احمد علی | کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جوتم سے پہلے تھے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اورجو ان کے بعد ہوئے الله کےسوا جنہیں کوئی نہیں جانتا ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے پھرانہوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں لوٹائے اور کہا ہم نہیں مانتے جو تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے اور جس دین کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہمیں تو اس میں بڑا شک ہے |
| فتح جالندھری | بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور جو ان کے بعد تھے۔ جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیئے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک میں ہیں |
| طاہر القادری | کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، (وہ) قومِ نوح اور عاد اور ثمود (کی قوموں کے لوگ) تھے اور (کچھ) لوگ جو ان کے بعد ہوئے، انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا (کیونکہ وہ صفحۂ ہستی سے بالکل نیست و نابود ہو چکے ہیں)، ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیوں کے ساتھ آئے تھے پس انہوں نے (اَز راہِ تمسخر و عناد) اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں ڈال لئے اور (بڑی جسارت کے ساتھ) کہنے لگے: ہم نے اس (دین) کا انکار کر دیا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اور یقیناً ہم اس چیز کی نسبت اضطراب انگیز شک میں مبتلا ہیں جس کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو، |
| علامہ جوادی | کیا تمہارے پاس اپنے سے پہلے والوں قوم نوح اور قوم عاد و ثمود اور جو ان کے بعد گزرے ہیں اور جنہیں خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے کی خبر نہیں آئی ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول معجزات لے کر آئے اور انہوں نے ان کے ہاتھوں کو ان ہی کے منہ کی طرف پلٹا دیا اور صاف کہہ دیا کہ ہم تمہارے لائے ہوئے پیغام کے منکر ہیں اور ہمیں اس بات کے بارے میں واضح شک ہے جس کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو |
| ایم جوناگڑھی | کیا تمہارے پاس تم سے پہلے کے لوگوں کی خبریں نہیں آئیں؟ یعنی قوم نوح کی اور عاد وﺛمود کی اور ان کے بعد والوں کی جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا، ان کے پاس ان کے رسول معجزے ﻻئے، لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منھ میں دبالیے اور صاف کہہ دیا کہ جو کچھ تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کے منکر ہیں اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو ہمیں تو اس میں بڑا بھاری شبہ ہے |
| حسین نجفی | کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزر چکے (یعنی) قومِ نوح(ع) اور عاد و ثمود(ع) اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ جب ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں (معجزے) لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں دبا لئے اور کہا کہ جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں اور تم جس (دین) کی طرف ہمیں دعوت دیتے ہو ہم اس کی طرف سے تردد آمیز شک میں ہیں۔ |
| M.Daryabadi: | Hath not the tidings come to you of those before you: the people of Nuh and the 'Aad and the Thamud and those after them! None knoweth them save Allah. There came unto them their apostles with the evidences, but they put their hands to their mouths, and said: verily we disbelieve in that where- with ye have been sent, and verily regarding that to which ye call Us We are in doubt disquieting. |
| M.M.Pickthall: | Hath not the history of those before you reached you: the folk of Noah, and (the tribes of) A'ad and Thamud, and those after them? None save Allah knoweth them. Their messengers came unto them with clear proofs, but they thrust their hands into their mouths, and said: Lo! we disbelieve in that wherewith ye have been sent, and lo! we are in grave doubt concerning that to which ye call us. |
| Saheeh International: | Has there not reached you the news of those before you - the people of Noah and 'Aad and Thamud and those after them? No one knows them but Allah. Their messengers brought them clear proofs, but they returned their hands to their mouths and said, "Indeed, we disbelieve in that with which you have been sent, and indeed we are, about that to which you invite us, in disquieting doubt." |
| Shakir: | Has not the account reached you of those before you, of the people of Nuh and Ad and Samood, and those after them? None knows them but Allah. Their apostles come to them with clear arguments, but they thrust their hands into their mouths and said: Surely we deny that with which you are sent, and most surely we are in serious doubt as to that to which you invite us. |
| Yusuf Ali: | Has not the story reached you, (O people!), of those who (went) before you? - of the people of Noah, and 'Ad, and Thamud? - And of those who (came) after them? None knows them but Allah. To them came messengers with Clear (Signs); but they put their hands up to their mouths, and said: "We do deny (the mission) on which ye have been sent, and we are really in suspicious (disquieting) doubt as to that to which ye invite us." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے
علمی ایت: بنیادی طور پر اس ایت سے انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایت کا کچھ حصہ محکم یا متاشبہ ہو بھی یا نہیں بھی ہو سکتا۔
تاریخی ایت: جو کہ تاریخی کے متعلق ہے اور جو کہ واقعات پہلے سے ہو چکے ہیں
تاریخ میں ہو جانے والے بہت سے پہلے وقتوں کے واقعات کے بارے میں صیح اللہ ہی جانتا ہے