Chapter No 13-پارہ نمبر    ‹           Abraham-14 سورت ابراہیم         ›Ayah No-43 ایت نمبر
| مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ |
| آسان اُردو | وہ دوڑ رہے ہوں گے اُن کے سر اوپر اُٹھے ہوئے، اُن کی نگائیں اُن کی طرف نہیں لوٹ سکیں گی، اور اُن کے دل ہوا(میں اڑھ رہے) ہوں گے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | دوسروں کو اوپر اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں جھپکنے کو واپس نہیں آئیں گی اور ان کے دل (بدحواسی میں) اڑے جارہے ہوں گے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں |
| احمد رضا خان | آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بے تحاشا دوڑے نکلیں گے اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں اور ان کے دلوں میں کچھ سکت نہ ہوگی |
| احمد علی | وہ سرا اٹھائے ہوئے دوڑتے چلے جارہے ہوں گے کہ ا ن کی نظر ان کی طرف ہٹ کرنہیں آوے گی اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے |
| فتح جالندھری | |
| طاہر القادری | (اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے |
| علامہ جوادی | سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہوں گے اور پلکیں بھی نہ پلٹتی ہوں گی اور ان کے دل دہشت سے ہوا ہورہے ہوں گے |
| ایم جوناگڑھی | وه اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑ بھاگ کر رہے ہوں گے، خود اپنی طرف بھی ان کی نگاہیں نہ لوٹیں گی اور ان کے دل خالی اور اڑے ہوئے ہوں گے |
| حسین نجفی | وہ تیزی سے دوڑ رہے ہوں گے اپنے سر اوپر اٹھاتے ہوئے اس عالم میں کہ ان کی نگاہ خود ان کی طرف نہیں پلٹے گی اور ان کے دل (خوف و دہشت کے سوا ہر خیال سے) خالی ہو رہے ہوں گے۔ |
| M.Daryabadi: | They hastening forward, their heads upraised, their look returning not unto them and their hearts void. |
| M.M.Pickthall: | As they come hurrying on in fear, their heads upraised, their gaze returning not to them, and their hearts as air. |
| Saheeh International: | Racing ahead, their heads raised up, their glance does not come back to them, and their hearts are void. |
| Shakir: | Hastening forward, their heads upraised, their eyes not reverting to them and their hearts vacant. |
| Yusuf Ali: | They running forward with necks outstretched, their heads uplifted, their gaze returning not towards them, and their hearts a (gaping) void! |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
علمی ایت: اگرچہ قران الہدی کی تمام کی تمام آیات ایک طرح سے علمی ہی ہیں لیکن یہ درجہ بندی ایک ایسی ایت کے لیے ہے
جس میں کوئی حکم نہیں ہوتا یعنی ایسی ایت محکم نہیں ہوتی ہے اور کسی اور ایت سے متاشبہ ہو بھی سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی۔ بنیادی طور پر اس ایت سے انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔
ہھلی ایت میں جو دن کا ذکر ہے اس ایت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قیامت کے دن کی بات ہے