اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 13-پارہ نمبر              Abraham-14 سورت ابراہیم         Ayah No-26 ایت نمبر

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ
آسان اُردو اور ایک بُری بات کی مثال جیسے ایک بُرا درخت، زمین کے اوپر سے اُکھڑا ہوا، اور اُس کے لیے قرار (مضبوطی) نہ ہو.
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور ناپاک کلمے کی مثال ایک خراب درخت کی طرح ہے جسے زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جائے، اس میں ذرا بھی جماؤ نہ ہو۔
ابو الاعلی مودودی اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے
احمد رضا خان اور گندی بات کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں
احمد علی اور ناپاک کلمہ کی مثال ایک ناپاک درخت کی سی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے اسے کچھ ٹھیراؤ نہیں ہے
فتح جالندھری اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا اس کو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں
طاہر القادری اور ناپاک بات کی مثال اس ناپاک درخت کی سی ہے جسے زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے، اسے ذرا بھی قرار (و بقا) نہ ہو،
علامہ جوادی اور کلمہ خبیثہ کی مثال اس شجرہ خبیثہ کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور اس کی کوئی بنیاد نہ ہو
ایم جوناگڑھی اور ناپاک بات کی مثال گندے درخت جیسی ہے جو زمین کے کچھ ہی اوپر سے اکھاڑ لیا گیا۔ اسے کچھ ﺛبات تو ہے نہیں
حسین نجفی اور کلمۂ خبیثہ (ناپاک کلمہ) کی مثال شجرۂ خبیثہ (ناپاک درخت) کی سی ہے جسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا جائے اور اس کے لئے ثبات و قرار نہ ہو۔
=========================================
M.Daryabadi: And the similitude of the foul word is as a foul tree, uprooted from upon the earth, and there is for it no stability.
M.M.Pickthall: And the similitude of a bad saying is as a bad tree, uprooted from upon the earth, possessing no stability.
Saheeh International: And the example of a bad word is like a bad tree, uprooted from the surface of the earth, not having any stability.
Shakir: And the parable of an evil word is as an evil tree pulled up from the earth's surface; it has no stability.
Yusuf Ali: And the parable of an evil Word is that of an evil tree: It is torn up by the root from the surface of the earth: it has no stability.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے
ایک اور مثال