Chapter No 13-پارہ نمبر    ‹           Abraham-14 سورت ابراہیم         ›Ayah No-22 ایت نمبر
| وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ |
| آسان اُردو | اور جب معاملے کا فیصلہ ہو جائے گا، تو شیطان کہے گا: بے شک! اللہ نے تم سے وعدہ کیا (اور) وعدہ سچا تھا؛ اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا پھر میں نے تمہارے خلاف کیا. میرا تم پر کوئی زورنہیں تھا ماسوائے کہ میں نے تمہیں پکارا پھر تم نے میرا کہنا مان لیا. پھر مجھے الزام نہ دو اور اپنے آپ کو الزام دو. میں تمہاری مددنہیں کر سکتا، اور نہ ہی تم میری مدد کر سکتے ہو. بے شک! میں اُس سے انکار کر تا ہوں جوپہلے تم مجھے شریک کرتے تھے. بے شک! ظالمین (نافرمانبردار)، انکے لیے درد ناک عذاب ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | اور جب ہر بات کا فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان (اپنے ماننے والوں سے) کہے گا : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو اس کی خلاف ورزی کی۔ اور مجھے تم پر اس سے زیادہ کوئی اختیار حاصل نہیں تھا کہ میں نے تمہیں (اللہ کی نافرمانی کی) دعوت دی تو تم نے میری بات مان لی۔ لہذا اب مجھے ملامت نہ کرو۔ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ تمہاری فریاد پر میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں، اور نہ میری فریاد پر تم میری مدد کرسکتے ہو۔ تم نے اس سے پہلے مجھے اللہ کا جو شریک مان لیا تھا، (آج) میں نے اس کا انکار کردیا ہے۔ جن لوگوں نے یہ ظلم کیا تھا، ان کے حصے میں تو اب دردناک عذاب ہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا "حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے و ہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اِس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میر ی اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے درد ناک سزا یقینی ہے" |
| احمد رضا خان | اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہوچکے گا بیشک اللہ نے تم کو سچا وعدہ دیا تھا اور میں نے جو تم کو وعدہ دیا تھا وہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور میرا تم پر کچھ قابو نہ تھا مگر یہی کہ میں نے تم کو بلایا تم نے میری مان لی تو اب مجھ پر الزام نہ رکھو خود اپنے اوپر الزام رکھو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو، وہ جو پہلے تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا میں اس سے سخت بیزار ہوں، بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے، |
| احمد علی | اور جب فیصلہ ہو چکے گا تو شیطان کہے گا بےشک الله نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اورمیں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا پھر میں نے وعدہ خلافی کی اور میرا تم پر اس کے سوا کوئی زور نہ تھا کہ میں نے تمہیں بلایا پھر تم نے میری بات کو مان لیا پھر مجھے الزام نہ دو اور اپنے آپ کو الزام دونہ میں تمہارا فریادرس ہوں اور نہ تم میرے فریاد رس ہو میں خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ تم اس سےپہلے مجھے شریک بناتے تھے بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے |
| فتح جالندھری | جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے |
| طاہر القادری | اور شیطان کہے گا جبکہ فیصلہ ہو چکے گا کہ بیشک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے (بھی) تم سے وعدہ کیا تھا، سو میں نے تم سے وعدہ خلافی کی ہے، اور مجھے (دنیا میں) تم پر کسی قسم کا زور نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں (باطل کی طرف) بلایا سو تم نے (اپنے مفاد کی خاطر) میری دعوت قبول کی، اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ (خود) اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں (آج) تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو۔ اس سے پہلے جو تم مجھے (اللہ کا) شریک ٹھہراتے رہے ہو بیشک میں (آج) اس سے انکار کرتا ہوں۔ یقیناً ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے، |
| علامہ جوادی | اور شیطان تمام امور کا فیصلہ ہوجانے کے بعد کہے گا کہ اللہ نے تم سے بالکل برحق وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی ایک وعدہ کیا تھا پھر میں نے اپنے وعدہ کی مخالفت کی اور میرا تمہارے اوپر کوئی زور بھی نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اسے قبول کرلیا تو اب تم میری ملامت نہ کرو بلکہ اپنے نفس کی ملامت کرو کہ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو میں تو پہلے ہی سے اس بات سے بیزار ہوں کہ تم نے مجھے اس کا شریک بنا دیا اور بیشک ظالمین کے لئے بہت بڑا دردناک عذاب ہے |
| ایم جوناگڑھی | جب اور کام کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تو تمہیں سچا وعده دیا تھا اور میں نے تم سے جو وعدے کیے تھے ان کے خلاف کیا، میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں، ہاں میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی، پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے، میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ﻇالموں کے لیے دردناک عذاب ہے |
| حسین نجفی | اور جب (ہر قسم کا) فیصلہ ہو جائے گا تو اس وقت شیطان کہے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا مگر میں نے تم سے وعدہ خلافی کی اور مجھے تم پر کوئی تسلط (زور) تو تھا نہیں سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں (کفر اور گناہ کی) دعوت دی اور تم نے میری دعوت قبول کر لی پس تم مجھے ملامت نہ کرو (بلکہ) خود اپنے آپ کو ملامت کرو (آج) نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں۔ اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو اس سے پہلے (دنیا میں) جو تم نے مجھے (خدا کا) شریک بنایا تھا میں اس سے بیزار ہوں بے شک ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ |
| M.Daryabadi: | And the Satan will say, When the affair hath been decreed: verily Allah promised you a promise of truth; and I promised you, then I failed; and I had over you no authoyourity, save that I called you and ye answered me; wherefore reproach not but reproach yourself. I am not me going to succour you nor are ye going to succour me: verily I disbelieve in your having associated me afore. Verily the wrong-doers! for them is a torment zfflictive. |
| M.M.Pickthall: | And Satan saith, when the matter hath been decided: Lo! Allah promised you a promise of truth; and I promised you, then failed you. And I had no power over you save that I called unto you and ye obeyed me. So blame not, but blame yourselves. I cannot help you, nor can ye help me, Lo! I disbelieved in that which ye before ascribed to me. Lo! for wrong-doers is a painful doom. |
| Saheeh International: | And Satan will say when the matter has been concluded, "Indeed, Allah had promised you the promise of truth. And I promised you, but I betrayed you. But I had no authority over you except that I invited you, and you responded to me. So do not blame me; but blame yourselves. I cannot be called to your aid, nor can you be called to my aid. Indeed, I deny your association of me [with Allah] before. Indeed, for the wrongdoers is a painful punishment." |
| Shakir: | And the Shaitan shall say after the affair is decided: Surely Allah promised you the promise of truth, and I gave you promises, then failed to keep them to you, and I had no authority over you, except that I called you and you obeyed me, therefore do not blame me but blame yourselves: I cannot be your aider (now) nor can you be my aiders; surely I disbelieved in your associating me with Allah before; surely it is the unjust that shall have the painful punishment. |
| Yusuf Ali: | And Satan will say when the matter is decided: "It was Allah Who gave you a promise of Truth: I too promised, but I failed in my promise to you. I had no authority over you except to call you but ye listened to me: then reproach not me, but reproach your own souls. I cannot listen to your cries, nor can ye listen to mine. I reject your former act in associating me with Allah. For wrong-doers there must be a grievous penalty." |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے
علمی ایت: ایک ایسی ایت جس میں کوئی حکم نہیں ہوتا یعنی ایسی ایت محکم نہیں ہوتی ہے اور کسی اور ایت سے متاشبہ ہو بھی سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی۔ بنیادی طور پر اس ایت سے انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔
یوم حساب والے دن کی بات ہے
مستقبل میں ہونے والی چیزیں