اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 13-پارہ نمبر              Abraham-14 سورت ابراہیم         Ayah No-18 ایت نمبر

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ
آسان اُردو مثال ہے اُن لوگوں کی جو اپنے رب سے کفر کرتے ہیں:(کہ) اُن کے اعمال جیسے راکھ ہو تیز ہوااُس(راکھ) کو ایک طوفانی دن میں اُڑا دے. وہ (کافر) اُس میں سے کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتے جو وہ کماتے ہیں. یہی تو وہ دور کی گمراہی ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کی روش اختیار کی ہے، ان کی حالت یہ ہے کہ ان کے اعمال اس راکھ کی طرح ہیں جسے آندھی طوفان والے دن میں ہوا تیزی سے اڑا لے جائے، انہوں نے جو کچھ کمائی کی ہوگی، اس میں سے کچھ ان کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔
ابو الاعلی مودودی جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پا سکیں گے یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے
احمد رضا خان اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا، یہی ہے دور کی گمراہی،
احمد علی ان کی مثال جنہوں نے اپنے رب سے انکار کیا ایسی ہے کہ ان کے اعمال گویا راکھ ہیں کہ جیسی آندھی کے دن ہوا اڑا کر لے گئی ہو جوکچھ انہوں نے کمایا تھا اس میں کچھ بھی ان کے ہاتھ میں نہ رہا ہویہ بھی بڑی دو رکی گمراہی ہے
فتح جالندھری جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے جائے (اس طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی۔ یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے
طاہر القادری جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے، ان کی مثال یہ ہے کہ ان کے اعمال (اس) راکھ کی مانند ہیں جس پر تیز آندھی کے دن سخت ہوا کا جھونکا آگیا، وہ ان (اَعمال) میں سے جو انہوں نے کمائے تھے کسی چیز پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ یہی بہت دور کی گمراہی ہے،
علامہ جوادی جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی ہے جسے اندھڑ کے دن کی تند ہوا اڑا لے جائے کہ وہ اپنے حاصل کئے ہوئے پر بھی کوئی اختیار نہ رکھیں گے اور یہی بہت دور تک پھیلی ہوئی گمراہی ہے
ایم جوناگڑھی ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اپنے پالنے والے سے کفر کیا، ان کے اعمال مثل اس راکھ کے ہیں جس پر تیز ہوا آندھی والے دن چلے۔ جو بھی انہوں نے کیا اس میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے، یہی دور کی گمراہی ہے
حسین نجفی جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال کی حالت اس راکھ جیسی ہے جسے سخت آندھی والے دن ہوا اڑا لے جائے جو کچھ انہوں نے کیا (کمایا) اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ آئے گا یہی بہت بڑی گمراہی ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: The likeness of those who disbelieve in their Lord: their works are like ashes upon which the wind bloweth hard on a stormy day: they shall not be able to get aught of that which they have earned. That! that is the straying far-off
M.M.Pickthall: A similitude of those who disbelieve in their Lord: Their works are as ashes which the wind bloweth hard upon a stormy day. They have no control of aught that they have earned. That is the extreme failure.
Saheeh International: The example of those who disbelieve in their Lord is [that] their deeds are like ashes which the wind blows forcefully on a stormy day; they are unable [to keep] from what they earned a [single] thing. That is what is extreme error.
Shakir: The parable of those who disbelieve in their Lord: their actions are like ashes on which the wind blows hard on a stormy day; they shall not have power over any thing out of what they have earned; this is the great error.
Yusuf Ali: The parable of those who reject their Lord is that their works are as ashes, on which the wind blows furiously on a tempestuous day: No power have they over aught that they have earned: that is the straying far, far (from the goal).
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط


منفرد یا الگ آیت:جس کا پچھلی ایت یا آیات سے کوئی تسلسل نہیں۔ ایک الگ بات یا موضوع کے بارے میں ہے
علمی ایت: ایک ایسی ایت جس میں کوئی حکم نہیں ہوتا یعنی ایسی ایت محکم نہیں ہوتی ہے اور کسی اور ایت سے متاشبہ ہو بھی سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی۔ بنیادی طور پر اس ایت سے انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ ایت ایک اصول بتا رہی ہے جو لوگ دھریے یا اپنے رب کے کافر ہیں۔ جتنے بھی اچھے وہ اعمال کر لیں اُن کی کوئی وقعت نہیں
جو کسب یا اعمال کرتے ہیں ان میں سے کسی چیز پر وہ قدرت نہیں رکھتے یعنی اُن سے فاہدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
اپنے رب سے تو کفر کرنا دھریہ پن اختیار کرنا اور اچھے اعمال کرکے کسی چیز کی توقع رکھنا بہت دور کی گمراہی ہے <