اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 13-پارہ نمبر            The Thunder-13 سورت الرعد         Ayah No-35 ایت نمبر

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ
آسان اُردو جنت کی مثال جس کا متقین سے وعدہ کیا گیا ہے اُس کے نیچے نہریں بہتی ہیں؛ اُس کے پھل اور اُس کے سائے دائمی(ہمیشہ قائم رہنے والے) ہیں یہ انجام ہے اُن لوگوں کا جو تقوی کرتے ہیں اور کافرین کا انجام آگ ہے
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی (دوسری طرف) وہ جنت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے پھل بھی سدا بہار ہیں، اور اس کی چھاؤں بھی ! یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقوی اختیار کیا، جبکہ کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔
ابو الاعلی مودودی خدا ترس انسانوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے
احمد رضا خان > احوال اس جنت کا کہ ڈر والوں کے لیے جس کا وعدہ ہے، اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ ڈر والوں کا تو یہ انجام ہے اور کافروں کا انجام آ گ،
احمد علی اس جنت کا حال جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں جس کے میوے اور سائے ہمیشہ رہیں گے یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے اور کافروں کا انجام آگ ہے
فتح جالندھری جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں۔ اور کافروں کا انجام دوزخ ہے
طاہر القادری > اس جنت کا حال جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے (یہ ہے) کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کا پھل بھی ہمیشہ رہنے والا ہے اور اس کا سایہ (بھی)، یہ ان لوگوں کا (حسنِ) انجام ہے جنہوں نے تقوٰی اختیار کیا، اور کافروں کا انجام آتشِ دوزخ ہے،
علامہ جوادی جس جنت کا صاحبانِ تقویٰ سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور اس کے پھل دائمی ہوں گے اور سایہ بھی ہمیشہ رہے گا -یہ صاحبان هتقوٰی کی عاقبت ہے اور کفار کا انجام کار بہرحال جّہنم ہے
ایم جوناگڑھی اس جنت کی صفت، جس کا وعده پرہیزگاروں کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کا میوه ہمیشگی واﻻ ہے اور اس کا سایہ بھی۔ یہ ہے انجام پرہیزگاروں کا، اور کافروں کا انجام کار دوزخ ہے
حسین نجفی جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ بھی (لازوال) ہے یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے اور کافروں کا انجام آتشِ دوزخ ہے۔
=========================================
M.Daryabadi: The case of the Garden which hath been promised unto the God-fearing: rivers flow thereunder; fruit thereof is perpetual, and so is thes hade thereof. This is the ending of those who fear; and the ending of the infidels is the Fire.
M.M.Pickthall: A similitude of the Garden which is promised unto those who keep their duty (to Allah): Underneath it rivers flow; its food is everlasting, and its shade; this is the reward of those who keep their duty, while the reward of disbelievers is the Fire.
Saheeh International: The example of Paradise, which the righteous have been promised, is [that] beneath it rivers flow. Its fruit is lasting, and its shade. That is the consequence for the righteous, and the consequence for the disbelievers is the Fire.
Shakir: A likeness of the garden which the righteous are promised; there now beneath it rivers, its food and shades are perpetual; this is the requital of those who guarded (against evil), and the requital of the unbelievers is the fire.
Yusuf Ali: The parable of the Garden which the righteous are promised!- beneath it flow rivers: perpetual is the enjoyment thereof and the shade therein: such is the end of the Righteous; and the end of Unbelievers in the Fire.
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

منفرد یا الگ آیت: ایک الگ بات یا موضوع کے بارے میں ہے
جنت کی مثال
تقوی کرنے والے اور کافرین دونوں کا انجام