Chapter No 13-پارہ نمبر    ‹         The Thunder-13 سورت الرعد         ›Ayah No-14 ایت نمبر
| لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ |
| آسان اُردو | اُسی کو پکارنا برحق (صیح) ہے اورجن (لوگوں)کو وہ (لوگ جو دوبارہ زندہ ہونے پر شک کرتے ہیں)اُس (اللہ) کے سواپکارتے ہیں وہ اُن کو کسی چیز کا بھی جواب نہیں دے سکتے، ماسوائے جیسے ایک شخص اپنے ہاتھوں کو پانی کی طرف پھیلاتا ہے کہ وہ (پانی) اُس (شخص)کے منہ میں پہنچ جائے، اور وہ(پانی) اُس (شخص) تک نہیں پہنچ سکتا اورکافرین( نہ ماننے والوں) کا پکارنا نہیں ہوتاماسوائے کہ گمراہی میں (چلا جاتا) ہے |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | وہی ہے جس سے دعا کرنا برحق ہے۔ اور اس کو چھوڑ کر یہ لوگ جن (دیوتاؤں) کو پکارتے ہیں وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دیتے، البتہ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر یہ چاہے کہ پانی خود اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ کبھی خود منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور (بتوں سے) کافروں کے دعا کرنے کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ بھٹکتی ہی پھرتی رہے۔ |
| ابو الاعلی مودودی | > اسی کو پکارنا برحق ہے رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں اُنہیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچنے والا نہیں بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بے ہدف! |
| احمد رضا خان | > اسی کا پکارنا سچا ہے اور اُس کے سوا جن کو پکارتے ہیں وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ ہرگز نہ پہنچے گا، اور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے، |
| احمد علی | اسی کو پکارنا بجا ہے اوراس کے سوا جن لوگوں کو پکارتے ہیں وہ ان کے کچھ بھی کام نہیں آتے مگر جیسا کوئی پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے کہ اس کے منہ میں آجائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک نہیں پہنچتا اور کافروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی ہے |
| فتح جالندھری | سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے |
| طاہر القادری | > اسی کے لئے حق (یعنی توحید) کی دعوت ہے، اور وہ (کافر) لوگ جو اس کے سوا (معبودانِ باطلہ یعنی بتوں) کی عبادت کرتے ہیں، وہ انہیں کسی چیز کا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ ان کی مثال تو صرف اس شخص جیسی ہے جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلائے (بیٹھا) ہو کہ پانی (خود) اس کے منہ تک پہنچ جائے اور (یوں تو) وہ (پانی) اس تک پہنچنے والا نہیں، اور (اسی طرح) کافروں کا (بتوں کی عبادت اور ان سے) دعا کرنا گمراہی میں بھٹکنے کے سوا کچھ نہیں، |
| علامہ جوادی | برحق پکارنا صرف خدا ہی کا پکارنا ہے اور جو لوگ اس کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں وہ ان کی کوئی بات قبول نہیں کرسکتے سوائے اس شخص کے مانند جو پانی کی طرف ہتھیلی پھیلائے ہو کہ منہ تک پہنچ جائے اور وہ پہنچنے والا نہیں ہے اور کافروں کی دعا ہمیشہ گمراہی میں رہتی ہے |
| ایم جوناگڑھی | اسی کو پکارنا حق ہے۔ جو لوگ اوروں کو اس کے سوا پکارتے ہیں وه ان (کی پکار) کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے مگر جیسے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منھ میں پڑ جائے حاﻻنکہ وه پانی اس کے منھ میں پہنچنے واﻻ نہیں، ان منکروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی میں ہے |
| حسین نجفی | > (تکلیف کے وقت) اسی کو پکارنا برحق ہے اور اسے چھوڑ کر جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ انہیں کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی (پیاسا) اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کہ وہ (پانی) اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس تک پہنچنے والا نہیں ہے اور کافروں کی دعا و پکار گمراہی میں بھٹکتی پھرتی ہے۔ |
| M.Daryabadi: | Unto Him is the true call, and those whom they call upon beside Him answer them not at all, save as is answered one stretching out his palms to water that it may reach his mouth, while it will reach it not. And the supplication of the infidels only goeth astray. |
| M.M.Pickthall: | Unto Him is the real prayer. Those unto whom they pray beside Allah respond to them not at all, save as (is the response to) one who stretcheth forth his hands toward water (asking) that it may come unto his mouth, and it will never reach it. The prayer of disbelievers goeth (far) astray. |
| Saheeh International: | To Him [alone] is the supplication of truth. And those they call upon besides Him do not respond to them with a thing, except as one who stretches his hands toward water [from afar, calling it] to reach his mouth, but it will not reach it [thus]. And the supplication of the disbelievers is not but in error [i.e. futility]. |
| Shakir: | To Him is due the true prayer; and those whom they pray to besides Allah give them no answer, but (they are) like one who stretches forth his two hands towards water that it may reach his mouth, but it will not reach it; and the prayer of the unbelievers is only in error. |
| Yusuf Ali: | For Him (alone) is prayer in Truth: any others that they call upon besides Him hear them no more than if they were to stretch forth their hands for water to reach their mouths but it reaches them not: for the prayer of those without Faith is nothing but (futile) wandering (in the mind). |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
اللہ باری تعالی کی شان اقدس
صرف اللہ کو پکارنا ہی حق ہے