اُردو عربی انڈکس Home-ویب پیج Page down-↓

Chapter No 13-پارہ نمبر              Joseph-12 سورت یوسف         Ayah No-54 ایت نمبر

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ
آسان اُردو اور بادشاہ نے کہا: اُس (یوسف ) کو میرے پاس لے آﺅ میں اُس کو اپنے لیے ہی مخصوص کر لوں پھر جب اُس (بادشاہ) نے اُس (یوسف) سے بات کی تو کہا: بے شک! آج سے تُو (اے یوسف) ہمارے پاس پکے(اور) اعتبار والے ہو
(آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں)
===============================
ایم تقی عثمانی اور بادشاہ نے کہا کہ : اس کو میرے پاس لے آؤ، میں اسے خالص اپنا (معاون) بناؤں گا۔ چنانچہ جب (یوسف بادشاہ کے پاس آگئے اور) بادشاہ نے ان سے باتیں کیں تو اس نے کہا : آج سے ہمارے پاس تمہارا بڑا مرتبہ ہوگا، اور تم پر پورا بھروسہ کیا جائے گا۔
ابو الاعلی مودودی > بادشاہ نے کہا "اُنہیں میرے پاس لاؤ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کر لوں" جب یوسفؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا "اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے"
احمد رضا خان اور بادشاہ بولا انہيں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لیے چن لوں پھر جب اس سے بات کی کہا بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں
احمد علی اور بادشاہ نے کہا کہ اسے میرے پاس لے آؤ تاکہ اسے خاص اپنے پاس رکھوں پھر جب اس سے بات چیت کی کہا بے شک تو آج سے ہمارے ہاں تو بڑا معزز اور معتبر ہے
فتح جالندھری بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو
طاہر القادری > اور بادشاہ نے کہا: انہیں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لئے (مشیرِ) خاص کر لوں، سو جب بادشاہ نے آپ سے (بالمشافہ) گفتگو کی (تو نہایت متاثر ہوا اور) کہنے لگا: (اے یوسف!) بیشک آپ آج سے ہمارے ہاں مقتدر (اور) معتمد ہیں (یعنی آپ کو اقتدار میں شریک کر لیا گیا ہے)،
علامہ جوادی اور بادشاہ نے کہا کہ ذرا انہیں لے آؤ میں اپنے ذاتی امور میں ساتھ رکھوں گا اس کے بعد جب ان سے بات کی تو کہا کہ تم آج سے ہمارے دربار میں باوقار امین کی حیثیت سے رہو گے
ایم جوناگڑھی بادشاه نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے خاص کاموں کے لئے مقرر کر لوں، پھر جب اس سے بات چیت کی تو کہنے لگا کہ آپ ہمارے ہاں آج سے ذی عزت اور امانت دار ہیں
حسین نجفی اور بادشاہ نے کہا کہ اسے میرے پاس بلاؤ تاکہ میں اسے اپنے (ذاتی کاموں کی انجام دہی) کے لیے مخصوص کر لوں۔ پس جب (یوسف آئے اور) بادشاہ نے اس سے گفتگو کی تو (متاثر ہوکر) کہا آج سے تم ہمارے ہاں صاحب مرتبہ اور امانت دار ہو۔
=========================================
M.Daryabadi: And the king said: bring him unto me I will single him out for myself Then when he spake unto him, he said: verily thou art to-day with us placed high, intrusted.
M.M.Pickthall: And the king said: Bring him unto me that I may attach him to my person. And when he had talked with him he said: Lo! thou art to-day in our presence established and trusted.
Saheeh International: And the king said, "Bring him to me; I will appoint him exclusively for myself." And when he spoke to him, he said, "Indeed, you are today established [in position] and trusted."
Shakir: And the king said: Bring him to me, I will choose him for myself. So when he had spoken with him, he said: Surely you are in our presence today an honorable, a faithful one.
Yusuf Ali: So the king said: "Bring him unto me; I will take him specially to serve about my own person." Therefore when he had spoken to him, he said: "Be assured this day, thou art, before our own presence, with rank firmly established, and fidelity fully proved!
======================================

آیت کے متعلق اہم نقاط

آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
یوسف ؑ کا قصہ
تاریخی ایت