Chapter No 12-پارہ نمبر    ‹           Joseph-12 سورت یوسف         ›Ayah No-32 ایت نمبر
| قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ |
| آسان اُردو | اُس (حاکم کی بیوی) نے کہا: پھریہ وہی ہے جس کے بارے میں تم (عورتوں) نے مجھے تہمت لگائی ہے اورمیں نے واقعی اُس کے نفس سے چاہا پھر یہ (برائی سے) بچا رہا، اور اگر وہ نہیں کرتا جو میں اُس کو حکم دے رہی ہوں تو واقعی اُس کو قید کر دیا جائے گا، اور واقعی وہ چھوٹوں(یعنی ذلیلوں) میں سے ہو جائے گا |
| (آسان اُردو ترجمے میں بریکٹ میں لکھے الفاظ، قرآن کی عبارت کا حصہ نہیں۔ یہ صرف فقرہ مکمل کرنے اور سمجھانے کے لیےہیں) |
| ایم تقی عثمانی | عزیز کی بیوی نے کہا : اب دیکھو ! یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم نے مجھے طعنے دیے تھے۔ یہ بات واقعی سچ ہے کہ میں نے اپنا مطلب نکالنے کے لیے اس پر ڈورے ڈالے، مگر یہ بچ نکلا، اور اگر یہ میرے کہنے پر عمل نہیں کرے گا، تو اسے قید ضرور کیا جائے گا، اور یہ ذلیل ہو کر رہے گا۔ |
| ابو الاعلی مودودی | عزیز کی بیوی نے کہا "دیکھ لیا! یہ ہے یہ وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں بے شک میں نے اِسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا |
| احمد رضا خان | زلیخا نے کہا تو يہ ہیں وہ جن پر مجھے طعنہ دیتی تھیں اور بیشک میں نے ان کا جِی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچا یا اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے |
| احمد علی | کہا یہی وہ ہے کہ جس کے معاملہ میں تم نے مجھےملامت کی تھی اور البتہ تحقیق میں نے اس سے دلی خواہش ظاہر کی تھی پھر اس نے اپنے آپ کو روک لیا اور اگر وہ میرا کہنا نہ مانے گا تو ضرور قید کر دیا جائے گا اور ذلیل ہو کررہے گا |
| فتح جالندھری | تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا |
| طاہر القادری | > (زلیخا کی تدبیر کامیاب ہوگئی تب) وہ بولی: یہی وہ (پیکرِ نور) ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور بیشک میں نے ہی (اپنی خواہش کی شدت میں) اسے پھسلانے کی کوشش کی مگر وہ سراپا عصمت ہی رہا، اور اگر (اب بھی) اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے کہتی ہوں تو وہ ضرور قید کیا جائے گا اور وہ یقینًا بے آبرو کیا جائے گا، |
| علامہ جوادی | زلیخا نے کہا کہ یہی وہ ہے جس کے بارے میں تم لوگوں نے میری ملامت کی ہے اور میں نے اسے کھینچنا چاہا تھا کہ یہ بچ کر نکل گیا اور جب میری بات نہیں مانی تو اب قید کیا جائے گا اور ذلیل بھی ہوگا |
| ایم جوناگڑھی | اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے کہا، یہی ہے جن کے بارے میں تم مجھے طعنے دے رہی تھیں، میں نے ہر چند اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا لیکن یہ بال بال بچا رہا، اور جو کچھ میں اس سے کہہ رہی ہوں اگر یہ نہ کرے گا تو یقیناً یہ قید کر دیا جائے گا اور بیشک یہ بہت ہی بے عزت ہوگا |
| حسین نجفی | عزیز کی بیوی نے کہا یہی وہ ہے جس کے بارے میں تم میری ملامت کرتی تھیں بے شک میں نے اس پر ڈورے ڈالے اور پھسلانے کی کوشش کی۔ مگر وہ بچا ہی رہا۔ (ہاں البتہ اب برملا کہتی ہوں کہ) اگر اس نے وہ نہ کیا جس کا میں اسے حکم دیتی ہوں تو پھر اسے ضرور قید کر دیا جائے گا۔ اور ضرور ذلیل بھی ہوگا۔ |
| M.Daryabadi: | She said: that then is he in regard to whom ye reproached me. Assuredly solicited him against himself but he abstained; and if he doth not that which I command him, he shall surely be imprisoned and he shall surely be of the degraded. |
| M.M.Pickthall: | She said: This is he on whose account ye blamed me. I asked of him an evil act, but he proved continent, but if he do not my behest he verily shall be imprisoned, and verily shall be of those brought low. |
| Saheeh International: | She said, "That is the one about whom you blamed me. And I certainly sought to seduce him, but he firmly refused; and if he will not do what I order him, he will surely be imprisoned and will be of those debased." |
| Shakir: | She said: This is he with respect to whom you blamed me, and certainly I sought his yielding himself (to me), but he abstained, and if he does not do what I bid him, he shall certainly be imprisoned, and he shall certainly be of those who are in a state of ignominy. |
| Yusuf Ali: | She said: "There before you is the man about whom ye did blame me! I did seek to seduce him from his (true) self but he did firmly save himself guiltless!.... and now, if he doth not my bidding, he shall certainly be cast into prison, and (what is more) be of the company of the vilest!" |
آیت کے متعلق اہم نقاط
آیت کا پچھلی آیت یا آیات سے تسلسل ہے یعنی ایک عنوان یا بات ہے جو کہ تسلسل سے ہو رہی ہے
یوسف ؑ کا قصہ
تاریخی ایت